Showing posts with label مبشر ڈاہر. Show all posts
Showing posts with label مبشر ڈاہر. Show all posts

Monday, 8 December 2025

بغاوت میں رہا ہوں میں بغاوت میں رہوں گا

 بغاوت میں رہا ہوں میں، بغاوت میں رہوں گا

محبت کا میں ہوں مجرم، ندامت میں رہوں گا

میں باطل کے عقیدوں کا ہوں کافر تو کہتا ہوں

شہیدِ راہِ الفت ہوں، شفاعت میں رہوں گا

کیا یوں چاک داماں کو، رفوگر نے دغا دے کر

بچی ہے عمر جتنی وہ، جراحت میں رہوں گا

Friday, 3 October 2025

ہے چلا جس نور سے یہ سارا شجرا نور کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے چلا جس نور سے، یہ سارا شجرا نور کا

مصطفیٰﷺ کی ذات ہی ہے، وہ ستارا نور کا

ٹوٹا پہلا کنگرا تھا، کفر کے ایوانوں کا

آمنہؑ نے دیکھا تھا جب، پہلا دھارا نور کا

چاند بھی مثلِ حسن، صدقہ ہے یہ نعلین کا

چہرۂ انورﷺ تو ہے اک شاہ پارا نور کا

Thursday, 2 October 2025

مرے لب پہ آئی ہے نعت عشق سرکار کے ساتھ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مِرے لب پہ آئی ہے نعت عشقِ سرکارؐ کے ساتھ

مِرے دل کا کوچہ ہے شاد عشقِ سرکارؐ کے ساتھ

لیا تھا ان سے عرق مانگ اک گُلِ زار نے جب

معطر سب گُل تبھی سے ہیں عشقِ سرکارؐ کے ساتھ

اشارے سے ٹُوٹ کر چاند بھی ہو چُکا مثالی

بنا چندا بھی مثلِ حُسن عشقِ سرکارؐ کے ساتھ

Wednesday, 1 October 2025

اسلاف کی عظمت کے نشاں رکھوں کہاں کہاں

 اسلاف کی عظمت کے نشاں، رکھوں کہاں کہاں

افلاس ہے پیہم رقصاں،۔ جاؤں جہاں جہاں

دِکھتا نہیں ہے کیوں یہ، اربابِ مجال کو

ہے درد مِرے گُلشن کا، کتنا نماں نماں

سنتا نہیں کوئی بھی، کس اور دوں دُہائی میں

بہرے جہاں میں رہتا ہوں، چیخوں کہاں کہاں