بغاوت میں رہا ہوں میں، بغاوت میں رہوں گا
محبت کا میں ہوں مجرم، ندامت میں رہوں گا
میں باطل کے عقیدوں کا ہوں کافر تو کہتا ہوں
شہیدِ راہِ الفت ہوں، شفاعت میں رہوں گا
کیا یوں چاک داماں کو، رفوگر نے دغا دے کر
بچی ہے عمر جتنی وہ، جراحت میں رہوں گا
بغاوت میں رہا ہوں میں، بغاوت میں رہوں گا
محبت کا میں ہوں مجرم، ندامت میں رہوں گا
میں باطل کے عقیدوں کا ہوں کافر تو کہتا ہوں
شہیدِ راہِ الفت ہوں، شفاعت میں رہوں گا
کیا یوں چاک داماں کو، رفوگر نے دغا دے کر
بچی ہے عمر جتنی وہ، جراحت میں رہوں گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے چلا جس نور سے، یہ سارا شجرا نور کا
مصطفیٰﷺ کی ذات ہی ہے، وہ ستارا نور کا
ٹوٹا پہلا کنگرا تھا، کفر کے ایوانوں کا
آمنہؑ نے دیکھا تھا جب، پہلا دھارا نور کا
چاند بھی مثلِ حسن، صدقہ ہے یہ نعلین کا
چہرۂ انورﷺ تو ہے اک شاہ پارا نور کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِرے لب پہ آئی ہے نعت عشقِ سرکارؐ کے ساتھ
مِرے دل کا کوچہ ہے شاد عشقِ سرکارؐ کے ساتھ
لیا تھا ان سے عرق مانگ اک گُلِ زار نے جب
معطر سب گُل تبھی سے ہیں عشقِ سرکارؐ کے ساتھ
اشارے سے ٹُوٹ کر چاند بھی ہو چُکا مثالی
بنا چندا بھی مثلِ حُسن عشقِ سرکارؐ کے ساتھ
اسلاف کی عظمت کے نشاں، رکھوں کہاں کہاں
افلاس ہے پیہم رقصاں،۔ جاؤں جہاں جہاں
دِکھتا نہیں ہے کیوں یہ، اربابِ مجال کو
ہے درد مِرے گُلشن کا، کتنا نماں نماں
سنتا نہیں کوئی بھی، کس اور دوں دُہائی میں
بہرے جہاں میں رہتا ہوں، چیخوں کہاں کہاں