رنج سے چیختی ہوئی آخر
روٹھنے لگ گئی خوشی آخر
عشق میں مشورہ ضروری تھا
میں نے مجنوں سے بات کی آخر
جانے کیا تھا چراغ کی لو میں
کہ ہوا ڈر کے بجھ گئی آخر
رنج سے چیختی ہوئی آخر
روٹھنے لگ گئی خوشی آخر
عشق میں مشورہ ضروری تھا
میں نے مجنوں سے بات کی آخر
جانے کیا تھا چراغ کی لو میں
کہ ہوا ڈر کے بجھ گئی آخر
بھٹک رہا ہے کسی جستجو میں کب سے کوئی
کہ جس خشوع سے الجھا ہوا ہے رب سے کوئی
دعائیں باپ کی کرتی ہیں رقص سوچوں میں
کہ جب بھی نام پکارے مِرا ادب سے کوئی
مجھے تو خود سے بھی ملنا کہاں نصیب مگر
ہے انتظار میں میرے گزشتہ شب سے کوئی
مجھے سمجھتے جو دیوار و در زیادہ نہیں
اسی لیے تو مجھے راس گھر زیادہ نہیں
جو ہجرتوں کے ہوں عادی تو ان پرندوں کا
شجر خیال تو رکھتے ہیں پر زیادہ نہیں
میں اپنے آپ سے ہارا ہوا ہوں سو مجھ کو
کسی شکست کا ویسے بھی ڈر زیادہ نہیں
دیکھنے والوں کی دھڑکن میں خلل پڑتا ہے
یہ جو گالوں میں تِرے یار! کنول پڑتا ہے
مجھ میں ہمت نہیں ہوتی سو تجھے ملنے کو
میرے اندر سے کوئی اور نکل پڑتا ہے
ایک رستہ مجھے منزل کی طرف جانے سے
ٹوکتا ہے تو کبھی ساتھ ہی چل پڑتا ہے
اس کی محفل میں مِرا نام نہیں ہو سکتا
اور پھر اتنا سر عام نہیں ہو سکتا
یہ تو پھر پھول کی قسمت ہے کھلے یانہ کھلے
اب بہاروں پہ تو الزام نہیں ہو سکتا
آپ جو مجھ سے مجھے مانگ رہے ہیں صاحب
دیکھئے آپ کا یہ کام نہیں ہو سکتا
اپنے دعووں سے کم منافق نئیں
وہ جو کہتے ہیں؛ ہم منافق نئیں
میں نے مطلب غلط لیا شاید
اس کی زلفوں کا خم منافق نئیں
وقت کی نازکی سمجھتا ہے
میری آنکھوں کا نم منافق نئیں
اشک ہیں اور نالہ ہے مِرے ساتھ
جانے کیا ہونے والا ہے مرے ساتھ
میں محمدﷺ کا نام لے لوں گا
بس یہی اک حوالہ ہے مرے ساتھ
پیاس دریا طلب کرے، لیکن
ایک خالی پیالہ ہے مرے ساتھ