Showing posts with label شیراز غفور. Show all posts
Showing posts with label شیراز غفور. Show all posts

Wednesday, 22 March 2023

رنج سے چیختی ہوئی آخر

 رنج سے چیختی ہوئی آخر

روٹھنے لگ گئی خوشی آخر

عشق میں مشورہ ضروری تھا

میں نے مجنوں سے بات کی آخر

جانے کیا تھا چراغ کی لو میں

کہ ہوا ڈر کے بجھ گئی آخر

Sunday, 19 December 2021

بھٹک رہا ہے کسی جستجو میں کب سے کوئی

 بھٹک رہا ہے کسی جستجو میں کب سے کوئی

کہ جس خشوع سے الجھا ہوا ہے رب سے کوئی

دعائیں باپ کی کرتی ہیں رقص سوچوں میں

کہ جب بھی نام پکارے مِرا ادب سے کوئی

مجھے تو خود سے بھی ملنا کہاں نصیب مگر

ہے انتظار میں میرے گزشتہ شب سے کوئی

Sunday, 5 September 2021

مجھے سمجھتے جو دیوار و در زیادہ نہیں

 مجھے سمجھتے جو دیوار و در زیادہ نہیں

اسی لیے تو مجھے راس گھر زیادہ نہیں

جو ہجرتوں کے ہوں عادی تو ان پرندوں کا

شجر خیال تو رکھتے ہیں پر زیادہ نہیں

میں اپنے آپ سے ہارا ہوا ہوں سو مجھ کو

کسی شکست کا ویسے بھی ڈر زیادہ نہیں

Tuesday, 31 August 2021

دیکھنے والوں کی دھڑکن میں خلل پڑتا ہے

دیکھنے والوں کی دھڑکن میں خلل پڑتا ہے

یہ جو گالوں میں تِرے یار! کنول پڑتا ہے

مجھ میں ہمت نہیں ہوتی سو تجھے ملنے کو

میرے اندر سے کوئی اور نکل پڑتا ہے

ایک رستہ مجھے منزل کی طرف جانے سے

ٹوکتا ہے تو کبھی ساتھ ہی چل پڑتا ہے

Monday, 30 August 2021

اس کی محفل میں مرا نام نہیں ہو سکتا

 اس کی محفل میں مِرا نام نہیں ہو سکتا

اور پھر اتنا سر عام نہیں ہو سکتا

یہ تو پھر پھول کی قسمت ہے کھلے یانہ کھلے

اب بہاروں پہ تو الزام نہیں ہو سکتا

آپ جو مجھ سے مجھے مانگ رہے ہیں صاحب

دیکھئے آپ کا یہ کام نہیں ہو سکتا

Sunday, 29 August 2021

اپنے دعووں سے کم منافق نئیں

 اپنے دعووں سے کم منافق نئیں

وہ جو کہتے ہیں؛ ہم منافق نئیں

میں نے مطلب غلط لیا شاید

اس کی زلفوں کا خم منافق نئیں

وقت کی نازکی سمجھتا ہے

میری آنکھوں کا نم منافق نئیں

Tuesday, 25 May 2021

اشک ہیں اور نالہ ہے مرے ساتھ

 اشک ہیں اور نالہ ہے مِرے ساتھ

جانے کیا ہونے والا ہے مرے ساتھ

میں محمدﷺ کا نام لے لوں گا

بس یہی اک حوالہ ہے مرے ساتھ

پیاس دریا طلب کرے، لیکن

ایک خالی پیالہ ہے مرے ساتھ