مجھے سمجھتے جو دیوار و در زیادہ نہیں
اسی لیے تو مجھے راس گھر زیادہ نہیں
جو ہجرتوں کے ہوں عادی تو ان پرندوں کا
شجر خیال تو رکھتے ہیں پر زیادہ نہیں
میں اپنے آپ سے ہارا ہوا ہوں سو مجھ کو
کسی شکست کا ویسے بھی ڈر زیادہ نہیں
یہ اور بات اترتے ہیں یا نہیں اس پار
پلِ صراط کا ویسے سفر زیادہ نہیں
کوئی بھی پیڑ کٹے جب تو رنج ہوتا پے
کہ میرے ملک میں اگتے شجر زیادہ نہیں
اتر گیا کوئی شیراز دل سے گر اک بار
پھر اس کی میں کبھی رکھتا خبر زیادہ نہیں
شیراز غفور
No comments:
Post a Comment