نظر میں رنگ سمائے ہوئے اسی کے ہیں
یہ سارے پھول اگائے ہوئے اسی کے ہیں
اسی کے لطف سے بستی نہال ہے ساری
تمام پیڑ لگائے ہوئے اسی کے ہیں
اسی کے حسن کی پرچھائیاں ہیں پتوں پر
زمیں نے بوجھ اٹھائے ہوئے اسی کے ہیں
نظر میں رنگ سمائے ہوئے اسی کے ہیں
یہ سارے پھول اگائے ہوئے اسی کے ہیں
اسی کے لطف سے بستی نہال ہے ساری
تمام پیڑ لگائے ہوئے اسی کے ہیں
اسی کے حسن کی پرچھائیاں ہیں پتوں پر
زمیں نے بوجھ اٹھائے ہوئے اسی کے ہیں
راہ کے پتھروں سے بھاری ہے
ہم نے کیا زندگی گزاری ہے
رات الٹی پہن کے سوتا ہوں
ہجرتوں کا عذاب جاری ہے
ہم تو بازی لگا کے ہار چکے
دوستو! اب تمہاری باری ہے
ہجر تنہائی کے لمحوں میں بہت بولتا ہے
رنگ اس کا کئی رنگوں میں بہت بولتا ہے
میں اسے چپ کے حوالے سے بھی کیسے لکھوں
وہ تو ایسا ہے کہ حرفوں میں بہت بولتا ہے
ایک لَو ہے کہ سرِ بام تھرکتی ہے بہت
اک دِیا ہے کہ دریچوں میں بہت بولتا ہے
شور کیسا ہے مبتلا مجھ میں
کون رہتا ہے دوسرا مجھ میں
میں کسی جبر کے حصار میں ہوں
اک سفر ہے رکا ہوا مجھ میں
جانے کیا تھا کہ رات اس کا خیال
راستہ ڈھونڈھتا رہا مجھ میں
سونے کے دل مٹی کے گھر پیچھے چھوڑ آئے ہیں
وہ گلیاں وہ شہر کے منظر پیچھے چھوڑ آئے ہیں
اپنے آئینوں کو ہم نے روگ لگا رکھا ہے
کیا کیا چہرے ہم شیشہ گر پیچھے چھوڑ آئے ہیں
تم اپنے دریا کا رونا رونے آ جاتے ہو
ہم تو اپنے سات سمندر پیچھے چھوڑ آئے ہیں
راہ کے پتھروں سے بھاری ہے
ہم نے کیا زندگی گزاری ہے
رات الٹی پہن کے سوتا ہوں
ہجرتوں کا عذاب جاری ہے
ہم تو بازی لگا کے ہار چکے
دوستو اب تمہاری باری ہے
خوشی ملی تو بہت ہی اداس بیٹھے رہے
چلا گیا وہ تو ہم اس کے پاس بیٹھے رہے
جمالِ یار کی لذت بیان کیا کرتے
نظر میں شوق بدن میں ہراس بیٹھے رہے
برہنگی ہی کچھ ایسی تھی شہرِ غربت کی
قبا پہن کے بھی ہم بے لباس بیٹھے رہے
شام کے آثار گِیلے ہیں بہت
پھر مِری آنکھوں میں تِیلے ہیں بہت
تم سے ملنے کا بہانہ تک نہیں
اور بچھڑ جانے کے حیلے ہیں بہت
کشتِ جاں کو خشک سالی کھا گئی
موسموں کے رنگ پیلے ہیں بہت
خود کو سیراب کیا اور نہ پیاسا رکھا
ہم نے دریا سے عجب جبر کا رشتہ رکھا
دل کو رکھا تیری یادوں کی نگہبانی میں
اور آنکھوں میں تیری دید کا پہرا رکھا
یہ بجا دودھ کی نہریں نہ بہائیں ہم نے
یہ کہو ہاتھ سے کب ہم نے یہ تیشہ رکھا
چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے
تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے
حادثہ جو بھی ہو چپ چاپ گزر جاتا ہے
دل سے اچھا کوئی رستہ نہیں دیکھا میں نے
پھر دریچے سے وہ خوشبو نہیں پہنچی مجھ تک
پھر وہ موسم کبھی دل کا نہیں دیکھا میں نے
تعاقب
پھر مرے تعاقب میں
اک اداس سا چہرہ
زخم زخم یادوں کے جبر کی ردا اوڑھے
ہجر کی تمازت میں
وصل کی مسافت میں