Showing posts with label سعید قیس. Show all posts
Showing posts with label سعید قیس. Show all posts

Friday, 25 March 2022

نظر میں رنگ سمائے ہوئے اسی کے ہیں

 نظر میں رنگ سمائے ہوئے اسی کے ہیں

یہ سارے پھول اگائے ہوئے اسی کے ہیں

اسی کے لطف سے بستی نہال ہے ساری

تمام پیڑ لگائے ہوئے اسی کے ہیں

اسی کے حسن کی پرچھائیاں ہیں پتوں پر

زمیں نے بوجھ اٹھائے ہوئے اسی کے ہیں

Monday, 15 March 2021

راہ کے پتھروں سے بھاری ہے

 راہ کے پتھروں سے بھاری ہے

ہم نے کیا زندگی گزاری ہے

رات الٹی پہن کے سوتا ہوں

ہجرتوں کا عذاب جاری ہے

ہم تو بازی لگا کے ہار چکے

دوستو! اب تمہاری باری ہے

Tuesday, 9 March 2021

ہجر تنہائی کے لمحوں میں بہت بولتا ہے

 ہجر تنہائی کے لمحوں میں بہت بولتا ہے

رنگ اس کا کئی رنگوں میں بہت بولتا ہے

میں اسے چپ کے حوالے سے بھی کیسے لکھوں

وہ تو ایسا ہے کہ حرفوں میں بہت بولتا ہے

ایک لَو ہے کہ سرِ بام تھرکتی ہے بہت

اک دِیا ہے کہ دریچوں میں بہت بولتا ہے

Sunday, 7 March 2021

شور کیسا ہے مبتلا مجھ میں

 شور کیسا ہے مبتلا مجھ میں

کون رہتا ہے دوسرا مجھ میں

میں کسی جبر کے حصار میں ہوں

اک سفر ہے رکا ہوا مجھ میں

جانے کیا تھا کہ رات اس کا خیال

راستہ ڈھونڈھتا رہا مجھ میں

Saturday, 6 March 2021

سونے کے دل مٹی کے گھر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

 سونے کے دل مٹی کے گھر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

وہ گلیاں وہ شہر کے منظر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

اپنے آئینوں کو ہم نے روگ لگا رکھا ہے

کیا کیا چہرے ہم شیشہ گر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

تم اپنے دریا کا رونا رونے آ جاتے ہو

ہم تو اپنے سات سمندر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

Friday, 5 March 2021

راہ کے پتھروں سے بھاری ہے

 راہ کے پتھروں سے بھاری ہے

ہم نے کیا زندگی گزاری ہے

رات الٹی پہن کے سوتا ہوں

ہجرتوں کا عذاب جاری ہے

ہم تو بازی لگا کے ہار چکے

دوستو اب تمہاری باری ہے

Thursday, 4 March 2021

خوشی ملی تو بہت ہی اداس بیٹھے رہے

 خوشی ملی تو بہت ہی اداس بیٹھے رہے

چلا گیا وہ  تو ہم اس کے پاس بیٹھے رہے

جمالِ یار کی لذت بیان کیا کرتے

نظر میں شوق بدن میں ہراس بیٹھے رہے

برہنگی ہی کچھ ایسی تھی شہرِ غربت کی

قبا پہن کے بھی ہم بے لباس بیٹھے رہے

Wednesday, 3 March 2021

شام کے آثار گیلے ہیں بہت

 شام کے آثار گِیلے ہیں بہت

پھر مِری آنکھوں میں تِیلے ہیں بہت

تم سے ملنے کا بہانہ تک نہیں

اور بچھڑ جانے کے حیلے ہیں بہت

کشتِ جاں کو خشک سالی کھا گئی

موسموں کے رنگ پیلے ہیں بہت

Sunday, 28 February 2021

خود کو سیراب کیا اور نہ پیاسا رکھا

خود کو سیراب کیا اور نہ پیاسا رکھا

ہم نے دریا سے عجب جبر کا رشتہ رکھا

دل کو رکھا تیری یادوں کی نگہبانی میں 

اور آنکھوں میں تیری دید کا پہرا رکھا

یہ بجا دودھ کی نہریں نہ بہائیں ہم نے

یہ کہو ہاتھ سے کب ہم نے یہ تیشہ رکھا

Wednesday, 23 December 2020

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

 چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے 

تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے 

حادثہ جو بھی ہو چپ چاپ گزر جاتا ہے 

دل سے اچھا کوئی رستہ نہیں دیکھا میں نے 

پھر دریچے سے وہ خوشبو نہیں پہنچی مجھ تک 

پھر وہ موسم کبھی دل کا نہیں دیکھا میں نے 

Tuesday, 22 December 2020

پھر مرے تعاقب میں اک اداس سا چہرہ

تعاقب


 پھر مرے تعاقب میں

اک اداس سا چہرہ

زخم زخم یادوں کے جبر کی ردا اوڑھے

ہجر کی تمازت میں

وصل کی مسافت میں