Monday, 15 March 2021

راہ کے پتھروں سے بھاری ہے

 راہ کے پتھروں سے بھاری ہے

ہم نے کیا زندگی گزاری ہے

رات الٹی پہن کے سوتا ہوں

ہجرتوں کا عذاب جاری ہے

ہم تو بازی لگا کے ہار چکے

دوستو! اب تمہاری باری ہے

مجھ پہ پھولوں کا قرض ہے میں نے

زندگی شاخ سے اتاری ہے

سوچتا ہوں کہ تھک گیا ہوں میں

تیری جانب سفر بھی جاری ہے

یہ جو ہم تم کو بھول جاتے ہیں

اک تعلق کی استواری ہے

اب زمانہ بدل گیا ہے قیس

اب محبت بھی اختیاری ہے


سعید قیس

No comments:

Post a Comment