کچھ نہیں دشت کی کہانی میں
ریت ہی ریت ہے روانی میں
اس نے اپنی کلائی آگے کی
ایک چُوڑی ملی نشانی میں
اس طرح آپ بِک نہیں سکتے
کچھ کمی کیجیے گرانی میں
ہم نے رُکنے کی ٹھان لی ہے یہاں
وقت رہتا رہے روانی میں
جھیل پر خوب ہم نے باتیں کیں
ایک کشتی کی میزبانی میں
ہم سے پیاسوں کا کیا بنے گا حسن
کوئی دریا نہیں کہانی میں
حسن ظہیر راجا
No comments:
Post a Comment