Monday, 15 March 2021

کچھ نہیں دشت کی کہانی میں

 کچھ نہیں دشت کی کہانی میں

ریت ہی ریت ہے روانی میں

اس نے اپنی کلائی آگے کی

ایک چُوڑی ملی نشانی میں

اس طرح آپ بِک نہیں سکتے

کچھ کمی کیجیے گرانی میں

ہم نے رُکنے کی ٹھان لی ہے یہاں

وقت رہتا رہے روانی میں

جھیل پر خوب ہم نے باتیں کیں

ایک کشتی کی میزبانی میں

ہم سے پیاسوں کا کیا بنے گا حسن

کوئی دریا نہیں کہانی میں


حسن ظہیر راجا

No comments:

Post a Comment