Showing posts with label زبیر حمزہ. Show all posts
Showing posts with label زبیر حمزہ. Show all posts

Monday, 27 February 2023

ستم شعار زمانے نے حوصلے نہ دئیے

 ستم شعار زمانے نے حوصلے نہ دئیے

رہِ سیاہ پہ پھینکا،۔ مگر دِیے نہ دئیے

بہت سے واقعے ایسے گزر گئے ہیں کہ جو

تِرے جمال کی عادت نے دیکھنے نہ دئیے

ہمارے بعد مزارِ وفا کو دیکھو تو

کہیں نہ پھول نہ خوشبو نہ طاقچے نہ دئیے

Saturday, 17 September 2022

رکھے ہے سر پہ دست مبارک حسینیت

 عارفانہ کلام منقبت سلام


رکھے ہے سر پہ دستِ مبارک، حسینیت

کرتی ہے میرے قلب میں دھک دھک حسینیت

سچا ہوں اس ہجومِ مسالک میں ایک میں

فرقہ حسینیت مِرا مسلک حسینیت

ہاں، اھدنا الصراط کا مصداق ہے یہی

ہاں، راہِ مستقیم ہے بے شک حسینیت

Friday, 29 October 2021

جنون دل کے ہرائے کو کون چھوڑتا ہے

 جنونِ دل کے ہرائے کو کون چھوڑتا ہے

محبتوں کے ستائے کو کون چھوڑتا ہے

میں تیری سمت جو لپکا، لپکنا بنتا تھا

کہ تپتی دھوپ میں سائے کو کون چھوڑتا ہے

میں ایک آنکھ سے نکلا ہوں کس طرح، مت پوچھ

خوشی سے اپنی سرائے کو کون چھوڑتا ہے

Friday, 15 October 2021

کس اداسی سے یہ وحشت نے کہا ہے مجھ کو

 کس اداسی سے یہ وحشت نے کہا ہے مجھ کو

اب کے پھولوں میں نیا رنگ دِکھا ہے مجھ کو

سرخئ لب ہے کہ خونِ دلِ عاشق کی لکیر

حسن کی ساری حقیقت کا پتا ہے مجھ کو

اب کسی رنجِ زمانہ پہ تڑپتا نہیں دل

تیرے آزارِ محبت کی دعا ہے مجھ کو

Tuesday, 12 October 2021

جادۂ خواب کہیں گرد میں تحلیل نہ ہو

 جادۂ خواب کہیں گرد میں تحلیل نہ ہو

دیکھ اے ماہ جبیں! شوق کی تذلیل نہ ہو

حسن ہو اور ستم کیش نہ ہو، حیرت ہے

یعنی اوزان میں ہو فعل، مفاعیل نہ ہو

کام اکٹھے کریں دونوں کسی منصوبے پر

اور ایسا ہو کہ اس کی کبھی تکمیل نہ ہو

غم میں خوش رہ سکو تو آ جاؤ

 غم میں خوش رہ سکو تو آ جاؤ

ہم میں خوش رہ سکو تو آ جاؤ

عشق سم الخیاط ہے صاحب

سم میں خوش رہ سکو تو آ جاؤ

اس زمیں پر مت آؤ نامولود

رم میں خوش رہ سکو تو آ جاؤ

Monday, 11 October 2021

اگر تو وہ بخیر ہے تو خیر ہے

 اگر تو وہ بخیر ہے، تو خیر ہے

وہ خوش میرے بغیر ہے تو خیر ہے

میں کہہ رہا تھا؛ لوٹ آ، تو لوٹتا

میں کہہ رہا ہوں خیر ہے تو خیر ہے

یہی بہت ہے اچھے میرے ساتھ ہیں

بروں کو مجھ سے بیر ہے تو خیر ہے

Wednesday, 4 August 2021

زندگی کھول نہ اب کوئی نیا باب ستم

 زندگی کھول نہ اب کوئی نیا بابِ ستم

بس کہ دل میں نہیں گنجائشِ غم، تابِ ستم

مالکِ ساز! اس آہنگ کو اتنا بھی نہ کھینچ

دُھن بنا دیتا ہے وحشت کی یہ مضرابِ ستم

ہاتھ شوخی سے نچاتے ہوئے کہتا ہے کہ جا

دستِ قدرت نے پلایا ہے مجھے آبِ ستم