ستم شعار زمانے نے حوصلے نہ دئیے
رہِ سیاہ پہ پھینکا،۔ مگر دِیے نہ دئیے
بہت سے واقعے ایسے گزر گئے ہیں کہ جو
تِرے جمال کی عادت نے دیکھنے نہ دئیے
ہمارے بعد مزارِ وفا کو دیکھو تو
کہیں نہ پھول نہ خوشبو نہ طاقچے نہ دئیے
ستم شعار زمانے نے حوصلے نہ دئیے
رہِ سیاہ پہ پھینکا،۔ مگر دِیے نہ دئیے
بہت سے واقعے ایسے گزر گئے ہیں کہ جو
تِرے جمال کی عادت نے دیکھنے نہ دئیے
ہمارے بعد مزارِ وفا کو دیکھو تو
کہیں نہ پھول نہ خوشبو نہ طاقچے نہ دئیے
عارفانہ کلام منقبت سلام
رکھے ہے سر پہ دستِ مبارک، حسینیت
کرتی ہے میرے قلب میں دھک دھک حسینیت
سچا ہوں اس ہجومِ مسالک میں ایک میں
فرقہ حسینیت مِرا مسلک حسینیت
ہاں، اھدنا الصراط کا مصداق ہے یہی
ہاں، راہِ مستقیم ہے بے شک حسینیت
جنونِ دل کے ہرائے کو کون چھوڑتا ہے
محبتوں کے ستائے کو کون چھوڑتا ہے
میں تیری سمت جو لپکا، لپکنا بنتا تھا
کہ تپتی دھوپ میں سائے کو کون چھوڑتا ہے
میں ایک آنکھ سے نکلا ہوں کس طرح، مت پوچھ
خوشی سے اپنی سرائے کو کون چھوڑتا ہے
کس اداسی سے یہ وحشت نے کہا ہے مجھ کو
اب کے پھولوں میں نیا رنگ دِکھا ہے مجھ کو
سرخئ لب ہے کہ خونِ دلِ عاشق کی لکیر
حسن کی ساری حقیقت کا پتا ہے مجھ کو
اب کسی رنجِ زمانہ پہ تڑپتا نہیں دل
تیرے آزارِ محبت کی دعا ہے مجھ کو
جادۂ خواب کہیں گرد میں تحلیل نہ ہو
دیکھ اے ماہ جبیں! شوق کی تذلیل نہ ہو
حسن ہو اور ستم کیش نہ ہو، حیرت ہے
یعنی اوزان میں ہو فعل، مفاعیل نہ ہو
کام اکٹھے کریں دونوں کسی منصوبے پر
اور ایسا ہو کہ اس کی کبھی تکمیل نہ ہو
غم میں خوش رہ سکو تو آ جاؤ
ہم میں خوش رہ سکو تو آ جاؤ
عشق سم الخیاط ہے صاحب
سم میں خوش رہ سکو تو آ جاؤ
اس زمیں پر مت آؤ نامولود
رم میں خوش رہ سکو تو آ جاؤ
اگر تو وہ بخیر ہے، تو خیر ہے
وہ خوش میرے بغیر ہے تو خیر ہے
میں کہہ رہا تھا؛ لوٹ آ، تو لوٹتا
میں کہہ رہا ہوں خیر ہے تو خیر ہے
یہی بہت ہے اچھے میرے ساتھ ہیں
بروں کو مجھ سے بیر ہے تو خیر ہے
زندگی کھول نہ اب کوئی نیا بابِ ستم
بس کہ دل میں نہیں گنجائشِ غم، تابِ ستم
مالکِ ساز! اس آہنگ کو اتنا بھی نہ کھینچ
دُھن بنا دیتا ہے وحشت کی یہ مضرابِ ستم
ہاتھ شوخی سے نچاتے ہوئے کہتا ہے کہ جا
دستِ قدرت نے پلایا ہے مجھے آبِ ستم