کس اداسی سے یہ وحشت نے کہا ہے مجھ کو
اب کے پھولوں میں نیا رنگ دِکھا ہے مجھ کو
سرخئ لب ہے کہ خونِ دلِ عاشق کی لکیر
حسن کی ساری حقیقت کا پتا ہے مجھ کو
اب کسی رنجِ زمانہ پہ تڑپتا نہیں دل
تیرے آزارِ محبت کی دعا ہے مجھ کو
یہ بھی کیا رنگِ سخاوت ہے کہ قسمت نے مِری
جس کی خواہش نہیں کی وہ کھُل کے دیا ہے مجھ کو
اجنبی شخص تُو اس زہر کا تریاق نہ ڈھونڈ
اپنے لوگوں کے رویوں نے ڈسا ہے مجھ کو
زبیر حمزہ
No comments:
Post a Comment