Friday, 15 October 2021

کس اداسی سے یہ وحشت نے کہا ہے مجھ کو

 کس اداسی سے یہ وحشت نے کہا ہے مجھ کو

اب کے پھولوں میں نیا رنگ دِکھا ہے مجھ کو

سرخئ لب ہے کہ خونِ دلِ عاشق کی لکیر

حسن کی ساری حقیقت کا پتا ہے مجھ کو

اب کسی رنجِ زمانہ پہ تڑپتا نہیں دل

تیرے آزارِ محبت کی دعا ہے مجھ کو

یہ بھی کیا رنگِ سخاوت ہے کہ قسمت نے مِری

جس کی خواہش نہیں کی وہ کھُل کے دیا ہے مجھ کو

اجنبی شخص تُو اس زہر کا تریاق نہ ڈھونڈ

اپنے لوگوں کے رویوں نے ڈسا ہے مجھ کو


زبیر حمزہ

No comments:

Post a Comment