اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک موسم ہرے پرندوں کا وہ سرد ہوا کا رزق ہوا
اک گلشن خالی پیڑوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک آنکھ ہے دریا آنکھوں کا ہر منظر اس میں ڈوب گیا
اک چہرہ صحرا چہروں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں