Showing posts with label اجمل نیازی. Show all posts
Showing posts with label اجمل نیازی. Show all posts

Wednesday, 9 March 2022

اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

 اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اک موسم ہرے پرندوں کا وہ سرد ہوا کا رزق ہوا

اک گلشن خالی پیڑوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اک آنکھ ہے دریا آنکھوں کا ہر منظر اس میں ڈوب گیا

اک چہرہ صحرا چہروں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

Wednesday, 12 January 2022

گہری آنکھوں میں یہ کیسی ہے بچھڑتی محفلوں کی روشنی

 گہری آنکھوں میں یہ کیسی ہے بچھڑتی محفلوں کی روشنی

اجنبی لوگوں میں دیکھی میں نے اپنے دوستوں کی روشنی

منزلوں پر وہ پہنچ کر بھی ابھی تک منزلوں جیسا نہیں

اس کی سوچوں سے بندھی ہے راستے کے منظروں کی روشنی

اس کے میرے درمیاں پاکیزگی کا رقص تو ہوتا نہیں

ایک پردے کی طرح رہتی ہے ننگی خواہشوں کی روشنی

Sunday, 19 December 2021

کائنات روح احمد میں کہیں رہتا ہے وہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اضطرابِ شوقِ بے حد میں کہیں رہتا ہے وہ

کائناتِ روحِ احمدﷺ میں کہیں رہتا ہے وہ

اضطرابِ خاکِ امجد میں کہیں رہتا ہے وہ

کائناتِ روحِ احمدﷺ میں کہیں رہتا ہے وہ

دائرہ در دائرہ صدیاں بلاتی ہیں اسے

سچی آوازوں کے گنبد میں کہیں رہتا ہے وہ

Saturday, 18 December 2021

عہد غفلت میں مجھے مثل سحر بھیجا گیا

 عہدِ غفلت میں مجھے مثلِ سحر بھیجا گیا

دیر تک سوئے ہوئے لوگوں کے گھر بھیجا گیا

کربلائے عشق میں تیری نظر کے سامنے

جسم کے نیزے پہ رکھ کر میرا سفر بھیجا گیا

روبرو ہے وہ میرے لیکن ہر اک لمحے کے بعد

ایسے لگتا ہے؛ اسے بارِ دِگر بھیجا گیا

Friday, 17 December 2021

ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے

 ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے

دل میں جھانکو تو کئی شہر بسا رکھتے تھے

اب کسے دیکھنے بیٹھے ہو لیے درد کی ضو

اٹھ گئے لوگ جو آنکھوں میں حیا رکھتے تھے

اس طرح تازہ خداؤں سے پڑا ہے پالا

یہ بھی اب یاد نہیں ہے کہ خدا رکھتے تھے

Friday, 30 July 2021

بکھرتی خاک میں کوئی خزانہ ڈھونڈھتی ہے

 بکھرتی خاک میں کوئی خزانہ ڈھونڈتی ہے

تھکی ہاری زمیں اپنا زمانہ ڈھونڈتی ہے

شجر کٹتے چلے جاتے ہیں دل کی بستیوں میں

تِری یادوں کی چڑیا آشیانہ ڈھونڈتی ہے

بھٹکتی ہے تجھے ملنے کی خواہش محفلوں میں

یہ خواہش خواہشوں میں آستانہ ڈھونڈتی ہے