Wednesday, 9 March 2022

اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

 اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اک موسم ہرے پرندوں کا وہ سرد ہوا کا رزق ہوا

اک گلشن خالی پیڑوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اک آنکھ ہے دریا آنکھوں کا ہر منظر اس میں ڈوب گیا

اک چہرہ صحرا چہروں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اک خواب خزانہ نیندوں کا وہ ہم سب نے برباد کیا

اک نیند خرابہ خوابوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اک لمحہ لاکھ زمانوں کا وہ مسکن ہے ویرانوں کا

اک عہد بکھرتے لمحوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

اک رستہ اس کے شہروں کا ہم اس کی دھول میں دھول ہوئے

اک شہر اس کی امیدوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں


اجمل نیازی

No comments:

Post a Comment