Wednesday, 9 March 2022

راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مرا

 راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مِرا

وہ مجھے روئے یہ کہہ کر ہائے دیوانا مرا

غیر کو ساقی نے جب بھر کر دیا جام شراب

آنسوؤں سے ہو گیا لبریز پیمانا مرا

میرے رونے پر وہ ان کا مسکرانا بار بار

اور بلائیں لے کے وہ قدموں پہ گر جانا مرا

حضرت ناصح کی باتیں میں سمجھتا ہی نہیں

نا سمجھ ہیں دل لگی سمجھے ہیں سمجھانا مرا

اے رسا! وہ بھی شریک محفل ماتم ہوئے

خضر بھی مرتے ہیں جس پر وہ ہے مر جانا مرا


رسا رامپوری

No comments:

Post a Comment