Showing posts with label چراغ حسن حسرت. Show all posts
Showing posts with label چراغ حسن حسرت. Show all posts

Monday, 3 August 2020

نقاب حسیناں کی جالی ملی ہے

ہمیں آج پیروں سے شالی ملی ہے
زمانے سے لیکن نرالی ملی ہے
نہیں دھان میں ایک چاول کا دانہ
صراحی ملی ہے یہ خالی ملی ہے
"ہتھو کتھ و تھرن زمستان چھوا یوں"
کہ شالی میں آدھی پلالی ملی ہے

دل ہے اور دل کی جرأت پرواز

جب سے تیرا کرم ہے بندہ نواز
سوز ہے سوز اور نہ ساز ہے ساز
میں ہوں اور میری بے پر و بالی
دل ہے اور دل کی جرأتِ پرواز
حسن کی برہمی،۔ معاذ اللہ
گیسوؤں کے بکھرنے کا انداز

Tuesday, 20 December 2016

محبت کس قدر یاس آفریں معلوم ہوتی ہے

محبت کس قدر ”یاس آفریں“ معلوم ہوتی ہے 
تِرے ہونٹوں کی ہر جنبش ”نہیں“ معلوم ہوتی ہے
یہ کس کے آستاں پر مجھ کو ذوقِ سجدہ لے آیا
کہ آج اپنی جبیں، اپنی جبیں معلوم ہوتی ہے
محبت تیرے جلوے کتنے رنگا رنگ جلوے ہیں
کہیں محسوس ہوتی ہے، کہیں معلوم ہوتی ہے

یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائے

یہ مایوسی کہیں وجہِ سکون دل نہ بن جائے
غمِ بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائے
مدد اے جذبِ دل! راہِ محبت سخت مشکل ہے
خیالِ دورئ منزل، کہیں منزل نہ بن جائے
نہیں ہے دل تو کیا پہلو میں ہلکی سی خلِش تو ہے
یہ ہلکی سے خلِش ہی رفتہ رفتہ، دل نہ بن جائے

Friday, 1 January 2016

اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئی

اس طرح کر گیا دل کو مِرے ویراں کوئی
نہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئی
ہر کلی میں ہے تِرے حسن دل آرأ کی نمود
اب کے دامن ہی بچے گا نہ گریباں کوئی
مے چکاں لب، نظر آوارہ، نگاہیں گستاخ
یوں مِرے پہلو سے اٹھا ہے غزلخواں کوئی

دشمن جوانیوں کی یہ آشنائیاں ہیں

دشمن جوانیوں کی یہ آشنائیاں ہیں
ان آشنائیوں میں کیا برائیاں ہیں
حسرتؔ کہو کہ کس سے آنکھیں لڑائیاں ہیں
ہونٹوں پہ سرد آہیں، منہ پہ ہوائیاں ہیں
یا دل ستانیاں تھیں یا مہربانیاں تھیں
یا کج ادائیاں ہیں، یا بے وفائیاں ہیں

دل بلا سے نثار ہو جائے

دل بلا سے نثار ہو جائے
آپ کو اعتبار ہو جائے
قہر تو بار بار ہوتا ہے
لطف بھی ایک بار ہو جائے
زندگی چارہ سازِ غم نہ سہی
موت ہی غم گسار ہو جائے

آؤ حسن یار کی باتیں کریں

آؤ حسنِ یار کی باتیں کریں
زلف کی رخسار کی باتیں کریں
زلفِ عنبر بار کے قصے سنائیں
طرۂ طرار کی باتیں کریں
پھول برسائیں بساطِ عیش پر 
روزِ وصلِ یار کی باتیں کریں

باغوں میں پڑے جھولے

باغوں میں پڑے جھولے
تم بھول گئے ہم کو 
ہم تم کو نہیں بھولے

یہ رقص ستاروں کا
سن لو کبھی افسانہ 
تقدیر کے ماروں کا

Sunday, 1 December 2013

یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا

یارب! غمِ ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دستِ دعا ہوتا
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا،۔۔ یا دل نہ دیا ہوتا
ناکامِ تمنا دل، اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا