کہا اپنوں سے بھی بدظن بہت ہیں
کہا لنکا ہے یہ؛ راون بہت ہیں
کہا نیرنگی ذاتِ الہٰی
کہا انساں کے درپن بہت ہیں
جسے دیکھیں اُسی کو تم سے اُلفت
ہماری جان کے دشمن بہت ہیں
کہا اپنوں سے بھی بدظن بہت ہیں
کہا لنکا ہے یہ؛ راون بہت ہیں
کہا نیرنگی ذاتِ الہٰی
کہا انساں کے درپن بہت ہیں
جسے دیکھیں اُسی کو تم سے اُلفت
ہماری جان کے دشمن بہت ہیں
سُنا ہے اپنی تو تنہائیوں پہ روتے ہو
سُنا ہے میری تباہی پہ شاد ہوتے ہو
یقین ہی نہیں آتا دِل💔 شکستہ کو
سُنا ہے تم بھی مجھے یاد کر کے روتے ہو
کمال کِس کے تصوّر کا ہے خُدا جانے
سُنا ہے اَشکوں سے ہر روز آنکھ دھوتے ہو
پریشاں کر رہا ہے غم کسی کا
کسی کو کیا جو نکلے دم کسی کا
تمہاری آنکھ کے تیور نہ بدلے
ہے سارے شہر میں ماتم کسی کا
بیانِ غم نہ کر پائی زُباں گر
کہے گا دیدۂ پُر نم کسی کا