Showing posts with label شریف ساجد. Show all posts
Showing posts with label شریف ساجد. Show all posts

Saturday, 11 October 2025

کہا اپنوں سے بھی بدظن بہت ہیں

 کہا اپنوں سے بھی بدظن بہت ہیں

کہا لنکا ہے یہ؛ راون بہت ہیں

کہا نیرنگی ذاتِ الہٰی

کہا انساں کے درپن بہت ہیں

جسے دیکھیں اُسی کو تم سے اُلفت

ہماری جان کے دشمن بہت ہیں

Monday, 21 October 2024

سنا ہے اپنی تو تنہائیوں پہ روتے ہو

 سُنا ہے اپنی تو تنہائیوں پہ روتے ہو

سُنا ہے میری تباہی پہ شاد ہوتے ہو

یقین ہی نہیں آتا دِل💔 شکستہ کو

سُنا ہے تم بھی مجھے یاد کر کے روتے ہو

کمال کِس کے تصوّر کا ہے خُدا جانے

سُنا ہے اَشکوں سے ہر روز آنکھ دھوتے ہو

Saturday, 14 September 2024

پریشاں کر رہا ہے غم کسی کا

 پریشاں کر رہا ہے غم کسی کا

کسی کو کیا جو نکلے دم کسی کا

تمہاری آنکھ کے تیور نہ بدلے

ہے سارے شہر میں ماتم کسی کا

بیانِ غم نہ کر پائی زُباں گر

کہے گا دیدۂ پُر نم کسی کا