Showing posts with label ظفر عجمی. Show all posts
Showing posts with label ظفر عجمی. Show all posts

Sunday, 4 April 2021

بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں

 بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں

تمہارے عشق میں اب جا کے سرخرو ہوئے ہیں

ہوا کے ساتھ اڑی ہے محبتوں کی مہک

یہ تذکرے جو مِری جان کو بہ کو ہوئے ہیں

وہ شب تو کٹ گئی جو پیاس کی تھی آخری شب

شریک گریۂ شبنم میں اب سبھو ہوئے ہیں

Saturday, 3 April 2021

تو نے کیوں ہم سے توقع نہ مسافر رکھی

 تُو نے کیوں ہم سے توقع نہ مسافر رکھی

ہم نے تو جاں بھی تِرے واسطے حاضر رکھی

ہاں اب اس سمت نہیں جانا پر اے دل اے دل

بام پر اس نے کوئی شمع اگر پھر رکھی

یہ الگ بات کہ وہ دل سے کسی اور کا تھا

بات تو اس نے ہماری بھی بظاہر رکھی

Friday, 2 April 2021

خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے

 خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے

بجائے خون کے اب روشنی نکلتی ہے

نگاہِ لطف ہو اس دل پہ بھی او شیشہ بدست

اس آئینے سے بھی صورت تِری نکلتی ہے

مِرے حریف ہیں مصروف حرف سازی میں

یہاں تو صوتِ یقیں آپ ہی نکلتی ہے

Thursday, 1 April 2021

جان بے تاب عجب تیرے ٹھکانے نکلے

 جانِ بے تاب عجب تیرے ٹھکانے نکلے

بارشِ سنگ میں سب آئینہ خانے نکلے

سب بڑے زعم سے آئے تھے نئے صورت گر

سب کے دامن سے وہی خواب پرانے نکلے

رات ہر وعدہ و پیمان امر لگتا تھا

صبح کے ساتھ کئی عذر بہانے نکلے

امید صبح بہاراں خزاں سے کھینچتے ہیں

امیدِ صبحِ بہاراں خزاں سے کھینچتے ہیں

یہ تیر روز دلِ ناتواں سے کھینچتے ہیں

کشیدِ تشنہ لبی قطرہ قطرہ پیتے ہیں

یہ آبِ تلخ غمِ رفتگاں سے کھینچتے ہیں

میں ان سے لقمۂ طیّب کی داد کیا چاہوں

جو اپنا رزق دہانِ سگاں سے کھینچتے ہیں

Thursday, 25 March 2021

آ کے جب خواب تمہارے نے کہا بسم اللہ

 آ کے جب خواب تمہارے نے کہا؛ بسم اللہ

دل مسافر تھکے ہارے نے کہا؛ بسم اللہ

ہجر کی رات میں جب درد کے بستر پہ گِرا

شب کے بہتے ہوئے دھارے نے کہا بسم اللہ

شام کا وقت تھا اور ناؤ تھی ساحل کے قریب

پاؤں چھُوتے ہی کنارے نے کہا؛ بسم اللہ