بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں
تمہارے عشق میں اب جا کے سرخرو ہوئے ہیں
ہوا کے ساتھ اڑی ہے محبتوں کی مہک
یہ تذکرے جو مِری جان کو بہ کو ہوئے ہیں
وہ شب تو کٹ گئی جو پیاس کی تھی آخری شب
شریک گریۂ شبنم میں اب سبھو ہوئے ہیں
بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں
تمہارے عشق میں اب جا کے سرخرو ہوئے ہیں
ہوا کے ساتھ اڑی ہے محبتوں کی مہک
یہ تذکرے جو مِری جان کو بہ کو ہوئے ہیں
وہ شب تو کٹ گئی جو پیاس کی تھی آخری شب
شریک گریۂ شبنم میں اب سبھو ہوئے ہیں
تُو نے کیوں ہم سے توقع نہ مسافر رکھی
ہم نے تو جاں بھی تِرے واسطے حاضر رکھی
ہاں اب اس سمت نہیں جانا پر اے دل اے دل
بام پر اس نے کوئی شمع اگر پھر رکھی
یہ الگ بات کہ وہ دل سے کسی اور کا تھا
بات تو اس نے ہماری بھی بظاہر رکھی
خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے
بجائے خون کے اب روشنی نکلتی ہے
نگاہِ لطف ہو اس دل پہ بھی او شیشہ بدست
اس آئینے سے بھی صورت تِری نکلتی ہے
مِرے حریف ہیں مصروف حرف سازی میں
یہاں تو صوتِ یقیں آپ ہی نکلتی ہے
جانِ بے تاب عجب تیرے ٹھکانے نکلے
بارشِ سنگ میں سب آئینہ خانے نکلے
سب بڑے زعم سے آئے تھے نئے صورت گر
سب کے دامن سے وہی خواب پرانے نکلے
رات ہر وعدہ و پیمان امر لگتا تھا
صبح کے ساتھ کئی عذر بہانے نکلے
امیدِ صبحِ بہاراں خزاں سے کھینچتے ہیں
یہ تیر روز دلِ ناتواں سے کھینچتے ہیں
کشیدِ تشنہ لبی قطرہ قطرہ پیتے ہیں
یہ آبِ تلخ غمِ رفتگاں سے کھینچتے ہیں
میں ان سے لقمۂ طیّب کی داد کیا چاہوں
جو اپنا رزق دہانِ سگاں سے کھینچتے ہیں
آ کے جب خواب تمہارے نے کہا؛ بسم اللہ
دل مسافر تھکے ہارے نے کہا؛ بسم اللہ
ہجر کی رات میں جب درد کے بستر پہ گِرا
شب کے بہتے ہوئے دھارے نے کہا بسم اللہ
شام کا وقت تھا اور ناؤ تھی ساحل کے قریب
پاؤں چھُوتے ہی کنارے نے کہا؛ بسم اللہ