Friday, 2 April 2021

خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے

 خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے

بجائے خون کے اب روشنی نکلتی ہے

نگاہِ لطف ہو اس دل پہ بھی او شیشہ بدست

اس آئینے سے بھی صورت تِری نکلتی ہے

مِرے حریف ہیں مصروف حرف سازی میں

یہاں تو صوتِ یقیں آپ ہی نکلتی ہے

زباں بریدہ شکستہ بدن سہی، پھر بھی

کھڑے ہوئے ہیں اور آواز بھی نکلتی ہے

تمام شہر ہے اک میٹھے بول کا سائل

ہماری جیب سے ہاں یہ خوشی نکلتی ہے

اک ایسا وقت بھی سیرِ چمن میں دیکھا ہے

کلی کے سینے سے جب بے کلی نکلتی ہے

کسی کے راستے کی خاک میں پڑے ہیں ظفر

متاعِ عمر یہی عاجزی نکلتی ہے


ظفر عجمی

No comments:

Post a Comment