Showing posts with label محمد اعظم. Show all posts
Showing posts with label محمد اعظم. Show all posts

Friday, 23 January 2026

سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے

 سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے

جو میں ہرگز نہ کرتا وہ مرا ہمزاد کرتا ہے

بکھر کر بھی اسی کو ڈھونڈتی ہیں ہر طرف آنکھیں

جو مجھ کو اک نگہ میں اک سے لاتعداد کرتا ہے

ہوئی ہیں شور دل میں غرق تعبیریں صداؤں کی

مگر اتنی خبر ہے کوئی کچھ ارشاد کرتا ہے

Wednesday, 22 January 2025

کہتا ہوں میں کہ غیر نے ہرگز کہا نہیں

 کہتا ہوں میں کہ غیر نے ہرگز کہا نہیں

تجھ کو نہ ہو قبول جو میری دعا نہیں

ان پانیوں کسی کو ڈبوئے نہ شرم شوق

میں آب آب اس کی طرف دیکھتا نہیں

سو رخ سے چومتا ہے تِرا پیرہن خیال

سب میں ہوں میری جان یہ موج ہوا نہیں

Sunday, 19 January 2025

کمان سونپ کے دشمن کو اپنے لشکر کی

 کمان سونپ کے دشمن کو اپنے لشکر کی

کہا کہ فتح و ظفر بات ہے مقدر کی

بلاوا لائی ہوائے بہشت پھر اک بار

طیور جانچ کرو اپنے اپنے شہ پر کی

چلو رکھ آئیں وہاں ہم بھی اپنے سر کا گلاب

سنا ہے بہتوں نے اس کی گلی معطر کی

Monday, 28 February 2022

اک نشتر نگاہ ہے اس سے زیادہ کیا

اک نشترِ نگاہ ہے اس سے زیادہ کیا

دم بھر کی آہ آہ ہے اس سے زیادہ کیا

گردن سے طوقِ خوف و طلب کو نکال دیکھ

پھر کوئی بادشاہ ہے اس سے زیادہ کیا

طاقت اگر ہے پاؤں میں صحرا کا خوف کیوں

بس اک کشادہ راہ ہے اس سے زیادہ کیا