سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے
جو میں ہرگز نہ کرتا وہ مرا ہمزاد کرتا ہے
بکھر کر بھی اسی کو ڈھونڈتی ہیں ہر طرف آنکھیں
جو مجھ کو اک نگہ میں اک سے لاتعداد کرتا ہے
ہوئی ہیں شور دل میں غرق تعبیریں صداؤں کی
مگر اتنی خبر ہے کوئی کچھ ارشاد کرتا ہے
سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے
جو میں ہرگز نہ کرتا وہ مرا ہمزاد کرتا ہے
بکھر کر بھی اسی کو ڈھونڈتی ہیں ہر طرف آنکھیں
جو مجھ کو اک نگہ میں اک سے لاتعداد کرتا ہے
ہوئی ہیں شور دل میں غرق تعبیریں صداؤں کی
مگر اتنی خبر ہے کوئی کچھ ارشاد کرتا ہے
کہتا ہوں میں کہ غیر نے ہرگز کہا نہیں
تجھ کو نہ ہو قبول جو میری دعا نہیں
ان پانیوں کسی کو ڈبوئے نہ شرم شوق
میں آب آب اس کی طرف دیکھتا نہیں
سو رخ سے چومتا ہے تِرا پیرہن خیال
سب میں ہوں میری جان یہ موج ہوا نہیں
کمان سونپ کے دشمن کو اپنے لشکر کی
کہا کہ فتح و ظفر بات ہے مقدر کی
بلاوا لائی ہوائے بہشت پھر اک بار
طیور جانچ کرو اپنے اپنے شہ پر کی
چلو رکھ آئیں وہاں ہم بھی اپنے سر کا گلاب
سنا ہے بہتوں نے اس کی گلی معطر کی
اک نشترِ نگاہ ہے اس سے زیادہ کیا
دم بھر کی آہ آہ ہے اس سے زیادہ کیا
گردن سے طوقِ خوف و طلب کو نکال دیکھ
پھر کوئی بادشاہ ہے اس سے زیادہ کیا
طاقت اگر ہے پاؤں میں صحرا کا خوف کیوں
بس اک کشادہ راہ ہے اس سے زیادہ کیا