Showing posts with label حیا غزل. Show all posts
Showing posts with label حیا غزل. Show all posts

Saturday, 25 December 2021

حکم ربی جب ہوا اس دم جہاں بنتا گیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حکمِ ربی جب ہوا اس دم جہاں بنتا گیا

یہ زمیں بنتی گئی، اور آسماں بنتا گیا

آزمائش کے لیے فانی جہاں بنتا گیا

پُر لطف سا پُر کیف سا جیسے سماں بنتا گیا

جہل چھایا جب زمیں پر زندگی بے نور تھی

علم کا ہر راستہ تب بے نشا ں بنتا گیا

Monday, 18 October 2021

مخملی ذات پہ ہیں گوٹا کناری باتیں

 مخملی ذات پہ ہیں گوٹا کناری باتیں

تُو بھی پیارا ہے مگر تجھ سے بھی پیاری باتیں

عشق رہتا ہے زماں اور مکاں سے آگے

دن نہیں یاد مگر یاد ہیں ساری باتیں

وہ میرے پاس تھا پر بھیڑ بھی تھی لوگوں کی

ہونٹ خاموش رہے آنکھ سے جاری باتیں

Tuesday, 5 October 2021

چھوڑنا ہی تھا اگر دل نہ جلاتے جاتے

 چھوڑنا ہی تھا اگر دل نہ جلاتے جاتے

یوں نہ الفت کے ہمیں خواب دکھاتے جاتے

وقت رخصت تو ہمیں یوں نہ رلاتے جاتے

لوگ ہنستے ہیں سبھی حال پہ آتے جاتے

ہم سے دامن ہی چھڑانا تھا تو ایسا کرتے

اپنے ہونے کا ہی احساس مٹاتے جاتے

Tuesday, 28 September 2021

سوچ بنتی ہوئی کاغذ پہ خیالی آنکھیں

 سوچ بنتی ہوئی کاغذ پہ خیالی آنکھیں

اس کے کمرے سے چرا لیں وہ نرالی آنکھیں

گرتی اٹھتی ہوئیں پلکوں سے توقف کرتیں

کیا کہوں کتنی مدلل ہیں مثالی آنکھیں

یاد کرنا ہو سبق جیسے ضروری کوئی

میں نے چہرے پہ یونہی اس کے گڑا لی آنکھیں

Tuesday, 22 June 2021

یہ جو مہیا وصل کا سامان کر دیا

 یہ جو مہیا وصل کا سامان کر دیا

تم نے تو میرے ہجر کا نقصان کر دیا

قائم نہیں رہا وہ کسی ایک بات پر

مشکل بنا کے راستہ آسان کر دیا

بے وقت اس طرح کی نوازش کا کیا جواز

مجھ کو تِری وفا نے پریشان کر دیا

Sunday, 30 May 2021

دل دھڑک سینے میں آہستہ نہ کہ زور کے ساتھ

 دل دھڑک سینے میں آہستہ نہ کہ زور کے ساتھ

جاگ جائیں نہ مِرے خواب کہیں شور کے ساتھ

اس کی تصویر کو سینے سے لگا کے ہم نے

وصل کی رات گزاری ہے عجب طور کے ساتھ

ہم نے بھی رسمِ وفا پوری نبھائی کب ہے

کیا عجب ہے وہ نظر آئے کسی اور کے ساتھ

Sunday, 25 April 2021

گھر میں ہو کر بھی پس دیوار و در ملتے نہیں

 گھر میں ہو کر بھی پس دیوار و در ملتے نہیں

ہم جہاں ہوتے ہیں خود کو ہی ادھر ملتے نہیں

ہیں مقدر میں اندهیرے محو رقصاں دوستو

راستے روشن ہوں کتنے چارہ گر ملتے نہیں

لے گیا طوفان اب کے سب یہاں کی رونقیں

بستیاں موجود ہیں لیکن بشر ملتے نہیں

Tuesday, 13 April 2021

خواب کا درپن ٹوٹ گیا تو

 خواب کا درپن ٹُوٹ گیا تو؟

ساتھ تمہارا چھُوٹ گیا تو

شیشے سا نازک دل میرا

کھیل میں تیرے ٹُوٹ گیا تو

بھیڑ میں جاتے ڈر لگتا ہے

رہزن کوئی لُوٹ گیا تو

Monday, 12 April 2021

ہوتا ہے بدگمان وہ اتنا کبھی کبھی

 ہوتا ہے بد گمان وہ اتنا کبھی کبھی

بہتا ہے الٹی سمت میں دریا کبھی کبھی

قسمت پہ اتنا بھی نہ کرو اعتبار تم

کرتا ہے بے وفائی ستارا کبھی کبھی

کس پل میں کیا ہو اور ہو کس پل میں کیا پتہ

لگتا نہیں پتہ مجھے تیرا کبھی کبھی

Monday, 5 April 2021

ہم ہیں دشت جنوں کے سودائی

 ہم ہیں دشتِ جنوں کے سودائی

سو یہ وحشت ہمیں کو راس آئی

پیار کا بخت، آبلہ پائی

مستقل ساتھ چلتی رسوائی

موت تو طے ہے اب کے اس دل کی

کنواں آگے تو پیچھے ہے کھائی

Sunday, 3 January 2021

حسن قاتل ہے یہ کہتے ہیں زمانے والے

 حسن قاتل ہے، یہ کہتے ہیں زمانے والے

مجھ سے منہ پھیر لے آنکھوں سے پلانے والے

مسکراتے ہوئے کچھ اور نکھر جاتا ہے

جانتے ہیں تِری تصویر بنانے والے

دل کو توڑا ہے مگر میری دعاؤں میں رہا

جا تِری خیر ہو اے مجھ کو رلانے والے