عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حکمِ ربی جب ہوا اس دم جہاں بنتا گیا
یہ زمیں بنتی گئی، اور آسماں بنتا گیا
آزمائش کے لیے فانی جہاں بنتا گیا
پُر لطف سا پُر کیف سا جیسے سماں بنتا گیا
جہل چھایا جب زمیں پر زندگی بے نور تھی
علم کا ہر راستہ تب بے نشا ں بنتا گیا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حکمِ ربی جب ہوا اس دم جہاں بنتا گیا
یہ زمیں بنتی گئی، اور آسماں بنتا گیا
آزمائش کے لیے فانی جہاں بنتا گیا
پُر لطف سا پُر کیف سا جیسے سماں بنتا گیا
جہل چھایا جب زمیں پر زندگی بے نور تھی
علم کا ہر راستہ تب بے نشا ں بنتا گیا
مخملی ذات پہ ہیں گوٹا کناری باتیں
تُو بھی پیارا ہے مگر تجھ سے بھی پیاری باتیں
عشق رہتا ہے زماں اور مکاں سے آگے
دن نہیں یاد مگر یاد ہیں ساری باتیں
وہ میرے پاس تھا پر بھیڑ بھی تھی لوگوں کی
ہونٹ خاموش رہے آنکھ سے جاری باتیں
چھوڑنا ہی تھا اگر دل نہ جلاتے جاتے
یوں نہ الفت کے ہمیں خواب دکھاتے جاتے
وقت رخصت تو ہمیں یوں نہ رلاتے جاتے
لوگ ہنستے ہیں سبھی حال پہ آتے جاتے
ہم سے دامن ہی چھڑانا تھا تو ایسا کرتے
اپنے ہونے کا ہی احساس مٹاتے جاتے
سوچ بنتی ہوئی کاغذ پہ خیالی آنکھیں
اس کے کمرے سے چرا لیں وہ نرالی آنکھیں
گرتی اٹھتی ہوئیں پلکوں سے توقف کرتیں
کیا کہوں کتنی مدلل ہیں مثالی آنکھیں
یاد کرنا ہو سبق جیسے ضروری کوئی
میں نے چہرے پہ یونہی اس کے گڑا لی آنکھیں
یہ جو مہیا وصل کا سامان کر دیا
تم نے تو میرے ہجر کا نقصان کر دیا
قائم نہیں رہا وہ کسی ایک بات پر
مشکل بنا کے راستہ آسان کر دیا
بے وقت اس طرح کی نوازش کا کیا جواز
مجھ کو تِری وفا نے پریشان کر دیا
دل دھڑک سینے میں آہستہ نہ کہ زور کے ساتھ
جاگ جائیں نہ مِرے خواب کہیں شور کے ساتھ
اس کی تصویر کو سینے سے لگا کے ہم نے
وصل کی رات گزاری ہے عجب طور کے ساتھ
ہم نے بھی رسمِ وفا پوری نبھائی کب ہے
کیا عجب ہے وہ نظر آئے کسی اور کے ساتھ
گھر میں ہو کر بھی پس دیوار و در ملتے نہیں
ہم جہاں ہوتے ہیں خود کو ہی ادھر ملتے نہیں
ہیں مقدر میں اندهیرے محو رقصاں دوستو
راستے روشن ہوں کتنے چارہ گر ملتے نہیں
لے گیا طوفان اب کے سب یہاں کی رونقیں
بستیاں موجود ہیں لیکن بشر ملتے نہیں
خواب کا درپن ٹُوٹ گیا تو؟
ساتھ تمہارا چھُوٹ گیا تو
شیشے سا نازک دل میرا
کھیل میں تیرے ٹُوٹ گیا تو
بھیڑ میں جاتے ڈر لگتا ہے
رہزن کوئی لُوٹ گیا تو
ہوتا ہے بد گمان وہ اتنا کبھی کبھی
بہتا ہے الٹی سمت میں دریا کبھی کبھی
قسمت پہ اتنا بھی نہ کرو اعتبار تم
کرتا ہے بے وفائی ستارا کبھی کبھی
کس پل میں کیا ہو اور ہو کس پل میں کیا پتہ
لگتا نہیں پتہ مجھے تیرا کبھی کبھی
ہم ہیں دشتِ جنوں کے سودائی
سو یہ وحشت ہمیں کو راس آئی
پیار کا بخت، آبلہ پائی
مستقل ساتھ چلتی رسوائی
موت تو طے ہے اب کے اس دل کی
کنواں آگے تو پیچھے ہے کھائی
حسن قاتل ہے، یہ کہتے ہیں زمانے والے
مجھ سے منہ پھیر لے آنکھوں سے پلانے والے
مسکراتے ہوئے کچھ اور نکھر جاتا ہے
جانتے ہیں تِری تصویر بنانے والے
دل کو توڑا ہے مگر میری دعاؤں میں رہا
جا تِری خیر ہو اے مجھ کو رلانے والے