Monday, 18 October 2021

مخملی ذات پہ ہیں گوٹا کناری باتیں

 مخملی ذات پہ ہیں گوٹا کناری باتیں

تُو بھی پیارا ہے مگر تجھ سے بھی پیاری باتیں

عشق رہتا ہے زماں اور مکاں سے آگے

دن نہیں یاد مگر یاد ہیں ساری باتیں

وہ میرے پاس تھا پر بھیڑ بھی تھی لوگوں کی

ہونٹ خاموش رہے آنکھ سے جاری باتیں

دو دلوں بیچ یہ ویرانہ کہاں سے آیا

ایک سناٹا ہے سناٹے پہ طاری باتیں

ہم تِرا ذکر ہر اک بات میں لے آتے ہیں

کون کرتا ہے بھلا اتنی تمہاری باتیں

میں نے غزلوں میں سمویا ہے تخیل تیرا

میں نے شعروں میں پرو کر ہیں سنواری باتیں

عشق میں یار کو رُسوا تو نہیں کرتے ہیں

کیسے کر لیتے ہو لوگوں سے ہماری باتیں


حیاء غزل

No comments:

Post a Comment