Showing posts with label ارشد امید. Show all posts
Showing posts with label ارشد امید. Show all posts

Monday, 11 October 2021

ستاتا ہے یہ میاں عمر بھر ستاتا ہے

 ستاتا ہے یہ میاں عمر بھر ستاتا ہے

بدن درندہ ہے، اور جانور ستاتا ہے

گُھٹن بھی ہوتی ہے دیوار دیکھ کر اکثر

میں گھر سے نکلوں تو مجھ کو سفر ستاتا ہے

ہمارے پُرکھوں کی عمریں لگی ہیں اس گھر میں

بتاؤ، کیسے کہوں مجھ کو گھر ستاتا ہے

Sunday, 10 October 2021

دور گر مجھ سے جاؤ گی پگلی

 دور گر مجھ سے جاؤ گی پگلی

ہجر میرا مناؤ گی پگلی

روٹھ جائیں گے ہم تو حجت میں

اور ہمیں تم مناؤ گی پگلی

خود ہی کر کے جدا مجھے اب کیا

خود ہی جینا سکھاؤ گی پگلی

Saturday, 9 October 2021

یار کیسی کو عشق ہو گیا ہے

 یار کیسی کو عشق ہو گیا ہے

تجھ سی لڑکی کو عشق ہو گیا ہے

انتہائے وفا بھی دیکھیۓ گا

گاؤں زادی کو عشق ہو گیا ہے

اب محلہ ستاتا ہے اس کو

ایک بوڑھی کو عشق ہو گیا ہے

Wednesday, 29 September 2021

کٹے سر بول پڑے تو اس واسطے ڈر رہے ہو تم

 کٹے سر بول پڑے تو


اس واسطے ڈر رہے ہو تم

کہ معجزے پر تمہارا یقین نہیں ہے

اچانک

ایک معجزہ رونما ہوا تو؟

کٹے سر بول پڑے تو؟

Saturday, 1 May 2021

کوچہ دل میں کوئی آیا نہ گیا

 کوچۂ دل میں کوئی آیا نہ گیا

ہم سے ایک شخص بھُلایا نہ گیا

پہلے تو پاس ہی آیا نہ گیا

پھر تیرے پاس سے جایا نہ گیا

کل کو ملتے ہیں یہ کہہ کر چلے تھے

عمر بھر پھر کوئی آیا نہ گیا