یار کیسی کو عشق ہو گیا ہے
تجھ سی لڑکی کو عشق ہو گیا ہے
انتہائے وفا بھی دیکھیۓ گا
گاؤں زادی کو عشق ہو گیا ہے
اب محلہ ستاتا ہے اس کو
ایک بوڑھی کو عشق ہو گیا ہے
کاروکاری کا جس نے فتویٰ دیا
اس کی بیٹی کو عشق ہو گیا ہے
تُو جہاں اتری، پٹڑی ختم ہوئی
ریل گاڑی کو عشق ہو گیا ہے
مسئلے گھر کے کون حل کرے گا
بڑے بھائی کو عشق ہو گیا ہے
تال، پتری، سلاخیں، در، دیوار
ان سے قیدی کو عشق ہو گیا ہے
اس کا کیا ہو گا کچھ بتا امیدِ
ایک چھوری کو عشق ہو گیا ہے
ارشد امید
No comments:
Post a Comment