Saturday, 9 October 2021

یار کیسی کو عشق ہو گیا ہے

 یار کیسی کو عشق ہو گیا ہے

تجھ سی لڑکی کو عشق ہو گیا ہے

انتہائے وفا بھی دیکھیۓ گا

گاؤں زادی کو عشق ہو گیا ہے

اب محلہ ستاتا ہے اس کو

ایک بوڑھی کو عشق ہو گیا ہے

کاروکاری کا جس نے فتویٰ دیا

اس کی بیٹی کو عشق ہو گیا ہے

تُو جہاں اتری، پٹڑی ختم ہوئی

ریل گاڑی کو عشق ہو گیا ہے

مسئلے گھر کے کون حل کرے گا

بڑے بھائی کو عشق ہو گیا ہے

تال، پتری، سلاخیں، در، دیوار

ان سے قیدی کو عشق ہو گیا ہے

اس کا کیا ہو گا کچھ بتا امیدِ

ایک چھوری کو عشق ہو گیا ہے


ارشد امید

No comments:

Post a Comment