Saturday, 9 October 2021

خلقت شہر میں اپنوں کا ستایا ہوا شخص

 خلقتِ شہر میں اپنوں کا ستایا ہوا شخص

مر ہی جائے گا کسی کرب میں آیا ہوا شخض

اپنے ہاتھوں سے کسی قبر میں رکھ آؤں گا

اپنے کاندھے پہ کوئی خود سا اُٹھایا ہوا شخص

اتنے صدمات میں زندہ ہے تو اک معجزہ ہے

وقت کے ہاتھ سے برسوں کا مٹایا ہوا شخص

اب تو رستے میں وہ کوہسار سے اُلجھا ہوا ہے

وہ تھا جنت میں جو مٹی سے بنایا ہوا شخص

دربدر ہے کہیں منزل کے سرابوں میں عقیل

دائرے میں تھا جو محور سے ہٹایا ہوا شخص


عقیل شاہ

No comments:

Post a Comment