Saturday, 9 October 2021

چلو مجھے اب رہائی دے دو

 مجھے اب رہائی دے دو


ضرورتوں کے عوض کیا تھا رہن خودی کو

ملے تھے جب تم زمانے پہلے

ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں

تمام قرضہ چکا دیا ہے

چلو مجھے اب رہائی دے دو

میں سود میں ختم ہو رہی ہوں


مہ جبیں غزل انصاری

No comments:

Post a Comment