کیا خاک مزا عشق کے اظہار میں آوے
انکار کا پہلو، اگر اقرار میں آوے
آنا ہو جسے ظلِ الٰہی کی اماں میں
وہ پہلے تِرے سایۂ دیوار میں آوے
ہیں آج بھی یوسف کے خریدار ہزاروں
وہ حُسن اگر مصر کے بازار میں آوے
ہو آبلہ پائی پہ جسے پُھوٹ کے رونا
وہ عشق کی کیوں وادیٔ پُرخار میں آوے
ملاح کو ساحل کی تمنا نہیں ہوتی
جب تک نہ سفینہ کوئی منجدھار میں آوے
آئینۂ ہستی کو مٹا دوں میں جہاں سے
گر بال مِرے شیشۂ کردار میں آوے
اُس موت کے ہو جاؤں دل و جان سے صدقے
وہ مجھ کو اگر کوچۂ دلدار میں آوے
تسبیح کے دانوں پہ یہاں جس کی نظر ہے
کیا لطف اسے حلقۂ زنّار میں آوے
میں فکر کی معرارج متین اس کو کہوں گا
غالب کی مہک گر مِرے اشعار میں آوے
متین امروہوی
No comments:
Post a Comment