Saturday, 9 October 2021

کاوش سہل کا امکان کہاں سوجھتا ہے

 کاوشِ سہل کا اِمکان کہاں سُوجھتا ہے

کام کوئی مجھے آسان کہاں سوجھتا ہے

باندھ لی بے سر و سامانی سفر میں ورنہ

ایسی عُجلت ہو تو سامان کہاں سوجھتا ہے

سامنے کون ہے، طغیانی کہاں دیکھتی ہے

اس قدر رنج میں نقصان کہاں سوجھتا ہے

ذہن ہو جاتا ہے آمادۂ بے راہ روی

بھوک بڑھ جائے تو ایمان کہاں سوجھتا ہے

چاک در چاک سبھی خستہ تنی واضح ہے

تیرے وحشی کو گریبان کہاں سوجھتا ہے

برف پڑتے ہوئے، دریا کا تصور کیسا؟

وصل میں ہجر مِری جان کہاں سوجھتا ہے

اب تِری واپسی نقصان کا باعث ہو گی

کرنے والے تجھے احسان کہاں سوجھتا ہے


حارث جمیل

No comments:

Post a Comment