Showing posts with label نظام الدین. Show all posts
Showing posts with label نظام الدین. Show all posts

Sunday, 15 March 2026

شکم کے گہرے غاروں میں اجالا کون دیتا ہے

 شکم کے گہرے غاروں میں اجالا کون دیتا ہے

توے پر روٹیاں، منہ میں نوالہ کون دیتا ہے

کہیں گل کے قصیدے ہیں کہیں خوشبو کے چرچے ہیں

میں مٹی ہوں، مگر میرا حوالہ کون دیتا ہے

متاعِ جان و ایماں کا محافظ کس کو کہتے ہیں

دہانِ غار پر مکڑی کا جالا کون دیتا ہے

Saturday, 11 January 2025

حاصل کو تشنگی کا مقدر لکھوں گا میں

 حاصل کو تشنگی کا مقدر لکھوں گا میں

اب ریگزارِ جاں کو سمندر لکھوں گا میں

لوں گا جمالیات میں اپنے ضمیر سے

سنگِ سیاہ کو بھی گُلِ تر لکھوں گا میں

مجھ کو جو ڈھونڈ لائے میں اس کا غلام ہوں

اک دن یہ اشتہار سڑک پر لکھوں گا میں

Friday, 13 December 2024

رشتے ناتوں کی اونچی دکاں اور ہم

 رشتے ناتوں کی اُونچی دُکاں اور ہم

خواہش سُود و فکر زیاں اور ہم

زندگی کا تعارف بہت مختصر

خواہشیں، اُلجھنیں، تلخیاں اور ہم

کیسا سپنا ہے، کیا اس کی تعبیر ہے

جلتی آنکھیں، چِتا کا دُھواں اور ہم

Wednesday, 11 December 2024

شکن شکن سے نشان ملال ملتا ہے

 شکن شکن سے نشان ملال ملتا ہے

جو دل کا ہے وہی چہرے کا حال ملتا ہے

اسی کا حُسن مکمل ہے اور محیط بھی ہے

ہر ایک شے میں اسی کا جمال ملتا ہے

خُدا کا شکر کہ دامن ملا نہ دام ہمیں

کسی کسی کو تو دستِ سوال ملتا ہے