شکم کے گہرے غاروں میں اجالا کون دیتا ہے
توے پر روٹیاں، منہ میں نوالہ کون دیتا ہے
کہیں گل کے قصیدے ہیں کہیں خوشبو کے چرچے ہیں
میں مٹی ہوں، مگر میرا حوالہ کون دیتا ہے
متاعِ جان و ایماں کا محافظ کس کو کہتے ہیں
دہانِ غار پر مکڑی کا جالا کون دیتا ہے
شکم کے گہرے غاروں میں اجالا کون دیتا ہے
توے پر روٹیاں، منہ میں نوالہ کون دیتا ہے
کہیں گل کے قصیدے ہیں کہیں خوشبو کے چرچے ہیں
میں مٹی ہوں، مگر میرا حوالہ کون دیتا ہے
متاعِ جان و ایماں کا محافظ کس کو کہتے ہیں
دہانِ غار پر مکڑی کا جالا کون دیتا ہے
حاصل کو تشنگی کا مقدر لکھوں گا میں
اب ریگزارِ جاں کو سمندر لکھوں گا میں
لوں گا جمالیات میں اپنے ضمیر سے
سنگِ سیاہ کو بھی گُلِ تر لکھوں گا میں
مجھ کو جو ڈھونڈ لائے میں اس کا غلام ہوں
اک دن یہ اشتہار سڑک پر لکھوں گا میں
رشتے ناتوں کی اُونچی دُکاں اور ہم
خواہش سُود و فکر زیاں اور ہم
زندگی کا تعارف بہت مختصر
خواہشیں، اُلجھنیں، تلخیاں اور ہم
کیسا سپنا ہے، کیا اس کی تعبیر ہے
جلتی آنکھیں، چِتا کا دُھواں اور ہم
شکن شکن سے نشان ملال ملتا ہے
جو دل کا ہے وہی چہرے کا حال ملتا ہے
اسی کا حُسن مکمل ہے اور محیط بھی ہے
ہر ایک شے میں اسی کا جمال ملتا ہے
خُدا کا شکر کہ دامن ملا نہ دام ہمیں
کسی کسی کو تو دستِ سوال ملتا ہے