بس ایسے ملے کہ
جدا ہو گئے ہم
جدا ہو کر پھر ہم
شجر میں کھلے یوں
کنارے بھی کئی
ندی کے پھر دیکھے
گھٹائیں بھی بن کر
میدانوں پہ برسے
ایسے ملے یوں بس
جدا ہو گئے ہم
تمنا کی انگلی پکڑ نہ سکے ہم
پرندوں کو آنکھوں سے
جکڑ نہ سکے ہم
محض گنبدوں سے انہی دیکھتے تھے
محض سیڑھیوں پہ چڑھے تھے
اور اترے
ایسے ملے کہ
جدا ہو گئے ہم
ہوا گھر ہمارا اڑا کر جو لے گئی
وحشتیں اپنا سہارا بنی پھر
سمندر گھڑے میں کوئی ڈالے
چلا گیا
ویرانوں کی لہروں میں
ڈوبے یوں ابھرے
ایسے ملے یوں کہ
جدا ہو گئے ہم
کتابوں کی باتیں
کتابوں میں اچھی
مگر سارے موسم
گلابوں میں ہیں پر
سوالوں نے نہ
سانس لینے دیا
جوانی تو جملوں
جوابوں میں ہے پر
سوال و جواب تو
سمجھ نہ سکے ہم
ایسے ملے یوں بس
جدا ہو گئے ہم
ایسے ملے بس
جدا ہو گئے ہم
سندھی شاعری: حسن درس
اردو ترجمہ: حسن مجتبیٰ
No comments:
Post a Comment