Sunday, 14 June 2026

بس ایسے ملے کہ جدا ہو گئے ہم

 بس ایسے ملے کہ 

جدا ہو گئے ہم

جدا ہو کر پھر ہم

شجر میں کھلے یوں

کنارے بھی کئی

ندی کے پھر دیکھے

گھٹائیں بھی بن کر 

میدانوں پہ برسے

ایسے ملے یوں بس

جدا ہو گئے ہم

تمنا کی انگلی پکڑ نہ سکے ہم

پرندوں کو آنکھوں سے 

جکڑ نہ سکے ہم

محض گنبدوں سے انہی دیکھتے تھے

محض سیڑھیوں پہ چڑھے تھے 

اور اترے

ایسے ملے کہ 

جدا ہو گئے ہم 

ہوا گھر ہمارا اڑا کر جو لے گئی

وحشتیں اپنا سہارا بنی پھر

سمندر گھڑے میں کوئی ڈالے

چلا گیا

ویرانوں کی لہروں میں

ڈوبے یوں ابھرے

ایسے ملے یوں کہ

جدا ہو گئے ہم

کتابوں کی باتیں 

کتابوں میں اچھی

مگر سارے موسم 

گلابوں میں ہیں پر

سوالوں نے نہ

سانس لینے دیا

جوانی تو جملوں 

جوابوں میں ہے پر

سوال و جواب تو

سمجھ نہ سکے ہم

ایسے ملے یوں بس

جدا ہو گئے ہم

ایسے ملے بس

جدا ہو گئے ہم


سندھی شاعری: حسن درس

اردو ترجمہ: حسن مجتبیٰ

No comments:

Post a Comment