Tuesday, 30 June 2026

ہو کے عالم میں بھی اک شور سنائی دے گا

 ہُو کے عالم میں بھی اک شور سُنائی دے گا

جو سماعت کو بہت میٹھا سُجھائی دے گا

حیف نفرت کے جزیروں میں بھٹکتے رہ کر

ایک انسان محبت کی دُہائی دے گا

ایک دن لوگ محبت سے شناسا ہوں گے

اور یہ ساز بہت دُور سنائی دے گا

ایک دُنیا مجھے روتے ہوئے رُخصت ہو گی

اور اِک شخص کہیں بھی نہ دِکھائی دے گا

گو کہ ہر سمت میں پھیلا ہے اندھیرا باسط

کوئی ہو گا جو اندھیرے میں دِکھائی دے گا


باسط علی راجہ

No comments:

Post a Comment