Sunday, 28 June 2026

فصل گل میں بات ساقی کی اٹھا سکتے نہیں

 فصلِ گُل میں بات ساقی کی اُٹھا سکتے نہیں

ناصحا! ہم لفظ توبہ لب پہ لا سکتے نہیں

ہے بہت ممکن جفاؤں کو تِری ہم بھُول جائیں

یاد کو تیری مگر دل سے بھُلا سکتے نہیں

اشکِ پیہم سے نہیں ہونے کی کم دل کی جلن

اس بھڑکتی آگ کو آنسُو بُجھا سکتے نہیں

ان بُتانِ سنگ دل پر کیا ہو نالوں کا اثر

لاکھ چاہیں جونک پتھر میں لگا سکتے نہیں

پڑھ کے میرا نامۂ شوق اس نے قاصد سے کہا

خُود سے آ جائیں تو آئیں، ہم بُلا سکتے نہیں

تھی کبھی یادِ بُتاں، اب دل میں ہے یادِ خُدا

پھر سے اس کعبہ کو بُت خانہ بنا سکتے نہیں

اب تو جسمِ ناتواں پر سر بھی بارِ دوش ہے

زیست کا بارِ گِراں بسمل اُٹھا سکتے نہیں


بسمل گیاوی

No comments:

Post a Comment