Saturday, 6 June 2026

زمانے کو خود سے نہ انجان رکھ

 زمانے کو خود سے نہ انجان رکھ

کوئی منفرد اپنی پہچان رکھ

مہک جائے خوشبو سے سارا جہاں

سجا کر محبت کا گُلدان رکھ

جو ہے کامیابی کی چاہت تجھے

نظر اپنی منزل پہ ہر آن رکھ

تِرا کیا بگاڑے گا ظالم جہاں

تُو ہمت کی سینے میں چٹان رکھ

رگِ جاں ہے بیوی اگرچہ تِری

تُو ماں باپ کا بھی مگر دھیان رکھ

دِکھائے گا تجھ کو خدا ایک دن

مدینے کا دل میں تُو ارمان رکھ

پھر احساس ہو گا تجھے درد کا

درِ دل پہ خوں رنگ دربان رکھ


درد سرونجی

No comments:

Post a Comment