زمانے کو خود سے نہ انجان رکھ
کوئی منفرد اپنی پہچان رکھ
مہک جائے خوشبو سے سارا جہاں
سجا کر محبت کا گُلدان رکھ
جو ہے کامیابی کی چاہت تجھے
نظر اپنی منزل پہ ہر آن رکھ
تِرا کیا بگاڑے گا ظالم جہاں
تُو ہمت کی سینے میں چٹان رکھ
رگِ جاں ہے بیوی اگرچہ تِری
تُو ماں باپ کا بھی مگر دھیان رکھ
دِکھائے گا تجھ کو خدا ایک دن
مدینے کا دل میں تُو ارمان رکھ
پھر احساس ہو گا تجھے درد کا
درِ دل پہ خوں رنگ دربان رکھ
درد سرونجی
No comments:
Post a Comment