سوچ کوئی بھی نہیں ہوتی عمل سے باہر
تم بھی آ جاؤ ذرا کُنجِ غزل سے باہر
زندگی بکھری ہے پیچیدہ گُزرگاہوں میں
اور ہم رہتے رہے دشت و جبل سے باہر
سوہنیوں اور چنابوں میں ہے نِسبت اب بھی
اور سَسیاں بھی نہیں ہیں ابھی تھل سے باہر
سوچ کوئی بھی نہیں ہوتی عمل سے باہر
تم بھی آ جاؤ ذرا کُنجِ غزل سے باہر
زندگی بکھری ہے پیچیدہ گُزرگاہوں میں
اور ہم رہتے رہے دشت و جبل سے باہر
سوہنیوں اور چنابوں میں ہے نِسبت اب بھی
اور سَسیاں بھی نہیں ہیں ابھی تھل سے باہر
بدنام گرچہ ہم ہوئے اپنے اصول میں
تجھ کو تو سرخرو کیا ہے عرض و طول میں
نیّت میں جب فتور ہو مقصد بے خانماں
بربادیاں تو ہوں گی پھر ایسے حصول سے
کوئی بھی ہم سے اس کا تدارک نہ ہو سکا
مصروف عمر بھر رہے کارِ فضول میں
مِری آنکھوں کے پیرائے بدل جاتے تو اچھا تھا
یہ گندے پیرہن اپنے اُجل جاتے تو اچھا تھا
تجاوز کر کے بیٹھے ہیں یہ کب سے میرے سینے میں
یہ چند ارمان بھی دل سے نکل جاتے تو اچھا تھا
بڑا ہی مرتبہ ہوتا ہے اس میں گرنے والوں کا
کبھی تم بھی محبت میں پھسل جاتے تو اچھا تھا
سچ
سچ کی مالا توڑنے والے
سچ کا جھنڈا لے بیٹھے ہیں
جھوٹ کو منظر منظر لے کر
کہتے ہیں وہ سچ کہتے ہیں
لیکن ہر اک بکھرا دانہ
ہر کونے سے بول رہا ہے