Showing posts with label احسان الٰہی. Show all posts
Showing posts with label احسان الٰہی. Show all posts

Saturday, 18 July 2026

سوچ کوئی بھی نہیں ہوتی عمل سے باہر

 سوچ کوئی بھی نہیں ہوتی عمل سے باہر

تم بھی آ جاؤ ذرا کُنجِ غزل سے باہر

زندگی بکھری ہے پیچیدہ گُزرگاہوں میں

اور ہم رہتے رہے دشت و جبل سے باہر

سوہنیوں اور چنابوں میں ہے نِسبت اب بھی

اور سَسیاں بھی نہیں ہیں ابھی تھل سے باہر

Saturday, 29 March 2025

بدنام گرچہ ہم ہوئے اپنے اصول میں

بدنام گرچہ ہم ہوئے اپنے اصول میں

تجھ کو تو سرخرو کیا ہے عرض و طول میں

نیّت میں جب فتور ہو مقصد بے خانماں

بربادیاں تو ہوں گی پھر ایسے حصول سے

کوئی بھی ہم سے اس کا تدارک نہ ہو سکا

مصروف عمر بھر رہے کارِ فضول میں

Wednesday, 11 September 2024

مری آنکھوں کے پیرائے بدل جاتے تو اچھا تھا

 مِری آنکھوں کے پیرائے بدل جاتے تو اچھا تھا

یہ گندے پیرہن اپنے اُجل جاتے تو اچھا تھا

تجاوز کر کے بیٹھے ہیں یہ کب سے میرے سینے میں

یہ چند ارمان بھی دل سے نکل جاتے تو اچھا تھا

بڑا ہی مرتبہ ہوتا ہے اس میں گرنے والوں کا

کبھی تم بھی محبت میں پھسل جاتے تو اچھا تھا

Tuesday, 10 September 2024

سچ کی مالا توڑنے والے

 سچ


سچ کی مالا توڑنے والے

سچ کا جھنڈا لے بیٹھے ہیں

جھوٹ کو منظر منظر لے کر

کہتے ہیں وہ سچ کہتے ہیں

لیکن ہر اک بکھرا دانہ

ہر کونے سے بول رہا ہے