Showing posts with label عدنان خالد. Show all posts
Showing posts with label عدنان خالد. Show all posts

Wednesday, 17 April 2024

کسی کانٹے سے رشتہ، کیل سے نسبت تمہاری ہے

 کسی کانٹے سے رشتہ، کیل سے نِسبت تمہاری ہے

بہت ہی سخت سنگِ میل سے نسبت تمہاری ہے

تمہارے ہاتھ کے چُھونے سے سانسیں رکنے لگتی ہیں

صحیح کہنا، کیا عزرائیل سے نسبت تمہاری ہے؟

جو تم نے کُرۂ دل پر یہ کعبہ ہے بنا ڈالا

پتا لگتا ہے اسماعیلؑ سے نسبت تمہاری ہے

Monday, 4 March 2024

ہزاروں تہمتیں دھر لو، ہمیں کچھ بھی نہیں کہنا

 ہزاروں تہمتیں دھر لو، ہمیں کچھ بھی نہیں کہنا

جو کہنا ہے تم ہی کہہ دو، ہمیں کچھ بھی نہیں کہنا

ہماری خامشی کو اپنے مطلب کے معانی دو

بھلے انجام کچھ بھی ہو، ہمیں کچھ بھی نہیں کہنا

زمانے کی کہانی میں کئی پنے ہیں، جن بابت

نہیں سننا ہے کچھ تم کو، ہمیں کچھ بھی نہیں کہنا

Wednesday, 21 September 2022

ہم نے اک عمر گزاری جسے پانے کے لیے

 ہم نے اک عمر گزاری جسے پانے کے لیے

وہ کہیں خود کو بدل دے نہ زمانے کے لیے

اس کی بیمارئ دل کی ہے جہاں میں افواہ

یہ تماشہ ہے فقط مجھ کو بلانے کے لیے

آج رخصت کے لیے پیش کیا ہے اس نے

جو بہانہ تھا کبھی ملنے ملانے کے لیے

Thursday, 18 August 2022

بات کہنے کا گر قرینہ ہو

 بات کہنے کا گر قرینہ ہو

تو کوئی بات ان سنی نہ ہو

آپ جچتے ہیں میری بانہوں میں

تاج میں جس طرح نگینہ ہو

یاد اس کی نہ آئے تیسوں دن

سال میں ایک تو مہینہ ہو

Monday, 15 August 2022

سوچ رکھے تھے کئی شام سے کام

 سوچ رکھے تھے کئی شام سے کام

پر نہ آگے بڑھا اک جام سے کام

چھوڑیے پاسِ وفا، چارہ گری

یہ تو ہیں دوست بہت عام سے کام

گرم کر لیتے ہیں کھانا خود ہی

یہ بھی لیتے نہیں مادام سے کام

Sunday, 14 August 2022

مری جھلک نہ رہے میرا تذکرہ نہ رہے

 مِری جھلک نہ رہے میرا تذکرہ نہ رہے

خدا نکردہ اسے میرا آسرا نہ رہے

ہمی سے ملنا ہے تو اس طرح ملو ہم سے

بس ایک ہم ہی رہیں کوئی دوسرا نہ رہے

پیام ایسا کوئی فون پر ہمیں بھیجو

قدم اٹھائے بنا کوئی فاصلہ نہ رہے

Monday, 11 July 2022

وہ ہم کو عشق میں ایسا نڈھال کر دے گا

 وہ ہم کو عشق میں ایسا نڈھال کر دے گا

کہ حوصلہ ہمیں کاسے میں ڈال کر دے گا

کُھرچتے وقت اسے میں نے یہ نہیں سوچا

پرانا زخم نئی شرٹ لال کر دے گا

وہ اپنے جسم کے خلیوں سے یوں کرے گا بات

لپٹ کے مجھ سے تکلم بحال کر دے گا