کسی کانٹے سے رشتہ، کیل سے نِسبت تمہاری ہے
بہت ہی سخت سنگِ میل سے نسبت تمہاری ہے
تمہارے ہاتھ کے چُھونے سے سانسیں رکنے لگتی ہیں
صحیح کہنا، کیا عزرائیل سے نسبت تمہاری ہے؟
جو تم نے کُرۂ دل پر یہ کعبہ ہے بنا ڈالا
پتا لگتا ہے اسماعیلؑ سے نسبت تمہاری ہے
کسی کانٹے سے رشتہ، کیل سے نِسبت تمہاری ہے
بہت ہی سخت سنگِ میل سے نسبت تمہاری ہے
تمہارے ہاتھ کے چُھونے سے سانسیں رکنے لگتی ہیں
صحیح کہنا، کیا عزرائیل سے نسبت تمہاری ہے؟
جو تم نے کُرۂ دل پر یہ کعبہ ہے بنا ڈالا
پتا لگتا ہے اسماعیلؑ سے نسبت تمہاری ہے
ہزاروں تہمتیں دھر لو، ہمیں کچھ بھی نہیں کہنا
جو کہنا ہے تم ہی کہہ دو، ہمیں کچھ بھی نہیں کہنا
ہماری خامشی کو اپنے مطلب کے معانی دو
بھلے انجام کچھ بھی ہو، ہمیں کچھ بھی نہیں کہنا
زمانے کی کہانی میں کئی پنے ہیں، جن بابت
نہیں سننا ہے کچھ تم کو، ہمیں کچھ بھی نہیں کہنا
ہم نے اک عمر گزاری جسے پانے کے لیے
وہ کہیں خود کو بدل دے نہ زمانے کے لیے
اس کی بیمارئ دل کی ہے جہاں میں افواہ
یہ تماشہ ہے فقط مجھ کو بلانے کے لیے
آج رخصت کے لیے پیش کیا ہے اس نے
جو بہانہ تھا کبھی ملنے ملانے کے لیے
بات کہنے کا گر قرینہ ہو
تو کوئی بات ان سنی نہ ہو
آپ جچتے ہیں میری بانہوں میں
تاج میں جس طرح نگینہ ہو
یاد اس کی نہ آئے تیسوں دن
سال میں ایک تو مہینہ ہو
سوچ رکھے تھے کئی شام سے کام
پر نہ آگے بڑھا اک جام سے کام
چھوڑیے پاسِ وفا، چارہ گری
یہ تو ہیں دوست بہت عام سے کام
گرم کر لیتے ہیں کھانا خود ہی
یہ بھی لیتے نہیں مادام سے کام
مِری جھلک نہ رہے میرا تذکرہ نہ رہے
خدا نکردہ اسے میرا آسرا نہ رہے
ہمی سے ملنا ہے تو اس طرح ملو ہم سے
بس ایک ہم ہی رہیں کوئی دوسرا نہ رہے
پیام ایسا کوئی فون پر ہمیں بھیجو
قدم اٹھائے بنا کوئی فاصلہ نہ رہے
وہ ہم کو عشق میں ایسا نڈھال کر دے گا
کہ حوصلہ ہمیں کاسے میں ڈال کر دے گا
کُھرچتے وقت اسے میں نے یہ نہیں سوچا
پرانا زخم نئی شرٹ لال کر دے گا
وہ اپنے جسم کے خلیوں سے یوں کرے گا بات
لپٹ کے مجھ سے تکلم بحال کر دے گا