Monday, 11 July 2022

وہ ہم کو عشق میں ایسا نڈھال کر دے گا

 وہ ہم کو عشق میں ایسا نڈھال کر دے گا

کہ حوصلہ ہمیں کاسے میں ڈال کر دے گا

کُھرچتے وقت اسے میں نے یہ نہیں سوچا

پرانا زخم نئی شرٹ لال کر دے گا

وہ اپنے جسم کے خلیوں سے یوں کرے گا بات

لپٹ کے مجھ سے تکلم بحال کر دے گا

میں جانتا ہوں کہ برباد ہونے کا موقع

وہ اپنے آپ سے مجھ کو نکال کر دے گا

میں اس کے سامنے آیا تو لازماً عدنان

وہ لاجواب سا کوئی سوال کر دے گا


عدنان خالد شریف

No comments:

Post a Comment