Monday, 11 July 2022

اک بار پھر کہو ذرا

گیت


 اک بار پھر کہو ذرا

کہ میری ساری کائنات

تیری اک نگاہ پر نثار ہے

میری تیرہ زندگی کا نور تُو 

جنت ارضی میں رشک حور تُو 

لذت جاں راحت قلب حزیں 

عشرت نظارہ مہ وش مہ جبیں 

اک بار پھر کہو ذرا

کہ تُو بہت حسین ہے 

نگاہ میں شباب کا خمار ہے 

شرم کے پردے میں پنہاں شوخیاں 

مسکراہٹ میں نہاں سو بجلیاں 

ہر ادا تیری مجھے مرغوب ہے 

دہر کی ہر چیز سے محبوب ہے 

اک بار پھر کہو ذرا

کہ پیکر فانی ہے کیا 

کہ دل تو تیری روح پر نثار ہے 

جسم فانی حسن بھی فانی میرا 

جزبہ دل لیکن ہے لافانی میرا 

مرد ہرجائی ہے ہر گُل پر نثار 

دل مگر دیتی ہے عورت ایک بار 

اک بار پھر کہو ذرا

کہ مجھ کو غیر کا خیال

توبہ توبہ بس ناگوار ہے 

میں وہی ہوں میں بدل سکتی نہیں

دوسرے سانچے میں ڈھل سکتی نہیں 

اب تیرے تیور تیرے طور اور ہیں 

میں کہاں اب قابل غور اور ہیں 

اک بار پھر کہو ذرا

کہ میرا عشق مہر اور ماہ سے زیادہ پائیدار ہے 

میرے سر کی جھوٹی قسمیں کیا ہوئیں

ظاہری الفت کی رسمیں کیا ہوئیں 

گریہ پیہم و الجھن کیا ہوئی 

سانس کی تیزی وہ دھڑکن کیا ہوئی

اک بار پھر کہو ذرا

کہ میرا عہد استوار روح سے زیادہ استوار ہے 

باندھ کر عہد وفا توڑا تو کیا

شیشہ دل توڑ کے جوڑا تو کیا

سب سمجھتی ہوں مگر معذور ہوں 

دل کی اس فریاد سے مجبور ہوں

اک بار پھر کہو ذرا

کہ میری ساری کائنات

تیری اک نگاہ پر نثار ہے


سجاد سرور نیازی

No comments:

Post a Comment