Monday, 11 July 2022

ہماری انتہائے شوق کیا ہے ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی

گیت


ہماری انتہائے شوق کیا ہے

ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی

ہمارے سامنے منزل نشاں ہے

نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی


ہماری زندگی کیا ہے

شعورِ ذات کی خاطر بس ایک آزمائش ہے

ہماری لغزشیں ہم کو سکھاتی ہیں

نئی راہیں دکھاتی ہیں

ہماری انتہائےِ شوق کیا ہے

ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی

ہمارے سامنے منزل نشاں ہے

نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی


ہماری آرزو کیا ہے کہ ہم اپنی رگِ جاں میں

وفا کے رنگ بھر دیں

ہماری آگہی ہم کو بناتی ہے

نئی شمعیں جلاتی ہے

ہماری انتہائےِ شوق کیا ہے

ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی

ہمارے سامنے منزل نشاں ہے

نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی


ارادوں کی زمین پر

کاوشوں کے پھول کھلتے ہیں

کوئی آندھی کوئی طوفاں 

کبھی راستہ نہ روکیں

ہمیں پورا یقیں ہے جب

ہمارے دل سے ہر دم

ایک ہی آواز آتی ہے

اللہ، اللہ، اللہ

ہماری انتہائےِ شوق کیا ہے

ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی

ہمارے سامنے منزل نشاں ہے

نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی


خاور کیانی

No comments:

Post a Comment