Showing posts with label جواد حاشر. Show all posts
Showing posts with label جواد حاشر. Show all posts

Tuesday, 30 April 2024

میں نے اس کو خواب میں دیکھا اور نجانے کتنی دیر

 میں نے اس کو خواب میں دیکھا اور نجانے کتنی دیر

میرے ہاتھ میں ہاتھ تھا اس کا اور نجانے کتنی دیر

دل کے دروازے پر اس کی یاد نے کل شب دستک دی

میں دیوار سے لگ کر رویا اور نجانے کتنی دیر 

اک مدت کے بعد مرا احساس ہوا ہرجائی کو

یعنی مجھ کو دیر سے سمجھا اور نجانے کتنی دیر

Wednesday, 3 April 2024

میرے خوابوں کی تم حویلی ہو

میرے خوابوں کی تم حویلی ہو

تم میرا عشق ہو، سہیلی ہو

میں جماؤں ہتھیلی پر سرسوں

ہاتھ میں گر تِری ہتھیلی ہو

میں بنفشہ کا پُھول ہوں اور تم

میری محبوبہ ہو، چمیلی ہو

Saturday, 9 March 2024

حریم ناز مرا کعبہ اور حرم ترا غم

 حریمِ ناز مِرا کعبہ اور حرم، تِرا غم

کسی حصار سے مجھ کو نہیں ہے کم ، ترا غم 

بس اس نشانی سے پہچانتے ہیں لوگ مجھے

کہ میرے چہرے پہ ہے جا بجا رقم، ترا غم

کہ کارِعشق میں حاصل ہوا ہے کیا مجھ کو

کوئی جو پوچھے تو رکھ لیتا ہے بھرم، ترا غم

Wednesday, 31 January 2024

خون روتے ہیں نین سرحد پر

 خُون روتے ہیں نین سرحد پر

روز لُٹتا ہے چین سرحد پر

ہم کو معلوم ہیں یہاں کے دُکھ 

ہم جو رہتے ہیں عین سرحد پر 

یہاں لاشے بچھائے جاتے ہیں

اور وہاں لین دین سرحد پر

Sunday, 28 January 2024

زمیں کی پیاس بجھاتے ہوئے لہو کی قسم

 زمیں کی پیاس بُجھاتے ہوئے لہُو کی قسم

ہم ایک ہوں گے شہیدانِ سرخرو کی قسم

چمن میں ایک نہ اک دن بہار آئے گی

ہے اس کو سینچے ہوئے خُون کی نمو کی قسم

جلے خیام کے صدقے تو روشنی کر دے

خُدایا! جلتے مکانوں کی آرزو کی قسم

Saturday, 20 January 2024

کچھ کمی تو جہد آزادی میں ایسی رہ گئی

 کچھ کمی تو جہدِ آزادی میں ایسی رہ گئی

جو مِرے پاؤں میں یہ زنجیر اُلجھی رہ گئی

میرے اس کے درمیاں کھینچی گئی خونی لکیر

میں تڑپتا رہ گیا، اور وہ سسکتی رہ گئی

باڑ کے نزدیک مت جاؤ وہاں بارود ہے

ایک ممتا اپنے شہزادے سے کہتی رہ گئی

Friday, 21 October 2022

راگ تھم جائیں گے شہنائی چلی جائے گی

راگ تھم جائیں گے، شہنائی چلی جائے گی

بے سُری گیت میں پھر چھائی چلی جائے گی

میں تِرے ہجر میں یعقوبؑ کی آنکھوں کی طرح

اتنا روؤں گا کہ بینائی چلی جائے گی

میں چلا جاؤں گا لیکن اے مِرے پیرِ مغاں

تیرے مے خانے سے رعنائی چلی جائے گی