میں نے اس کو خواب میں دیکھا اور نجانے کتنی دیر
میرے ہاتھ میں ہاتھ تھا اس کا اور نجانے کتنی دیر
دل کے دروازے پر اس کی یاد نے کل شب دستک دی
میں دیوار سے لگ کر رویا اور نجانے کتنی دیر
اک مدت کے بعد مرا احساس ہوا ہرجائی کو
یعنی مجھ کو دیر سے سمجھا اور نجانے کتنی دیر