Showing posts with label شہناز مزمل. Show all posts
Showing posts with label شہناز مزمل. Show all posts

Sunday, 24 December 2023

کرم یہ رحمت رب الانام کر دینا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کرم یہ رحمتِ ربّ الانام کر دینا

عطائے جلوۂ دارالسّلام کر دینا

پیامِ اذنِ حضوری مجھے ملے جس دم

زباں پہ جاری محمدﷺ کا نام کر دینا

نہ لُوں میں دولتِ کونین آپؐ کے بدلے

تو روزِ حشر، شفاعت امام کر دینا

Wednesday, 13 July 2022

عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا

 عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا

اور اس دل نے بنا ڈالا تماشا دل کا

بعد تیرے کوئی نظروں میں سمایا ہی نہیں

اب صدا دیتا نہیں خالی یہ کاسہ دل کا

ایک طوفان ہے روکے سے نہیں جو رکتا

موج نے توڑ دیا ہو نہ کنارا دل کا

Friday, 26 November 2021

وہ سامنے ہوں مرے اور نظر جھکی نہ رہے

 وہ سامنے ہوں مِرے اور نظر جھکی نہ رہے

متاعِ زیست لٹا کر کوئی کمی نہ رہے

دِیے جلائے ہیں میں نے کھلے دریچوں پر

اے تند و تیز ہوا! تجھ کو برہمی نہ رہے

بتاؤ، ایسا بھی منظر نظر سے گزرا ہے

چراغ جلتے رہیں، اور روشنی نہ رہے

Monday, 3 August 2020

راز کھولیں نہ اس کا سنیں بارشیں

چشمِ نم، آگہی، چاہتیں، بارشیں
دوریاں، حسرتیں، قربتیں، بارشیں
ٹوٹے یہ خامشی، کوئی ہلچل مچا
ہلکی رم جھم سی ہے کب ہوئیں بارشیں
نغمہ زن ہے فضا رقص میں ہے ہوا
میگھ ملہار گاتی پھریں بارشیں

حرص و ہوس کے آگے نہ کچھ بھی دکھائی دے

حرص و ہوس کے آگے نہ کچھ بھی دکھائی دے
انسان اپنے قد سے بھی چھوٹا دکھائی دے
اپنے دلوں کا کھوٹ کوئی عیب تو نہیں
سکہ پرایا ہو، تو وہ کھوٹا دکھائی دے
کوئی تو ایسا شخص دکھاؤ ذرا مجھے
انسانیت کا بوجھ جو ڈھوتا دکھائی دے

Tuesday, 13 December 2016

لکھا عرش بریں پر ہے محمد مصطفٰی کا نام

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
ہدیۂ نعت بحضور سرورِ کائناتﷺ

لکھا عرشِ بریں پر ہے محمد مصطفٰیﷺ کا نام
خدا نے آپ رکھا ہے مِرے صلِ علیﷺ کا نام
انہی کے دم سے روشن ہو گیا کعبہ و بت خانہ
انہی کے دم سے روشن تا ابد غارِ حرا کا نام
ہے کتنی چاشنی اس نام میں کہ چوم لیتے ہیں
سجا رکھا ہے ہم نے دل میں یہ اعلی و ارفع نام

اب عشق تماشا ہے بنا عشق مسلسل

اب عشق تماشا ہے بنا عشقِ مسلسل
ہے عشق کے دِیوے کی ضیا عشقِ مسلسل
میرے ادھورے خواب ہیں دیوار پہ تصویر
جذب و حروف کی ہے عطا عشقِ مسلسل 
اپنی تلاش کر کے مِلا جادۂ عرفاں
پھر نورِ کل نے دی ہے جزا عشقِ مسلسل 

میں کھو گئی ہوں مگر اب گمان بولے گا

میں کھو گئی ہوں مگر اب گمان بولے گا
مکیں بغیر یہ خالی مکان بولے گا
یہ خامشی تو مِری ذات کا حوالہ ہے
میں گم ہوں عشق میں میرا گیان بولے گا
تمازتوں سے بچاتا جو ماں ہے ممتا ہے
یقیں دلانے کو ہر سائبان بولے گا

تھے عجیب میرے بھی فیصلے میں کڑی کماں سے گزر گئی

تھے عجیب میرے بھی فیصلے، میں کڑی کماں سے گزر گئی
رہے فاصلے میرے منتظر، میں تو جسم و جاں سے گزر گئی
مجھے راستوں کی خبر نہ تھی، اڑی راکھ میرے وجود کی
میں تلاش کرتی ہوئی تجھے، تیرے لا مکاں سے گزر گئی
تھیں طویل اتنی مسافتیں، کوئی ساتھ میرا نہ دے سکا
وہ یقیں کی حد پہ ٹھہر گیا، میں ہر اک مکاں سے گزر گئی

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے
ہاتھ میں تیشہ لیے پھرتے ہیں رہبر سارے
چشم پوشی کا سلیقہ ہی سکھا دے مجھ کو
زخمی کر دیتے ہیں احساس کے نشتر سارے
عہدِ رفتہ کی اسیری سے رہائی دے مجھے
یا بدل ڈال میری سوچ کے محور سارے

Thursday, 18 April 2013

غبارِ راہ بنی میں رہ غبار میں ہوں

غبارِ راہ بنی میں رہِ غبار میں ہوں
نہ جانے کون ہے میں جسکے انتظار میں ہوں
وہ مجھ سے ملنے پلٹ کر ضرور آئے گا
بہت زمانے سے امید کے حصار میں ہوں
یہ جبر و قدر کا چکر ازل سے چلتا ہے
کبھی یہ سوچا نہیں کس کے اختیار میں ہوں

Wednesday, 28 November 2012

وہ سامنے ہوں مرے اور نظر جھکی نہ رہے

 وہ سامنے ہوں مِرے اور نظر جھکی نہ رہے

متاع زیست لٹا کر کوئی کمی نہ رہے

دئیے جلائے ہیں میں نے کھلے دریچوں پر

اے تند و تیز ہوا! تجھ کو برہمی نہ رہے

بتاؤ ایسا بھی منظر نظر سے گزرا ہے

چراغ جلتے رہیں اور روشنی نہ رہے

Wednesday, 1 August 2012

بکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتے

بِکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتے
کوئی بھی کام خلافِ انا نہیں کرتے
شجر پہ بیٹھے ہوئے پنچھیوں سے بات کرو
فضا میں اڑتے پرندے سنا نہیں کرتے
گہر شناس ہیں طوفاں کے ساتھ رہتے ہیں
سمندروں سے عداوت کِیا نہیں کرتے

سائے پھیل جاتے ہیں درد رت کے ڈھلنے سے

سائے پھیل جاتے ہیں درد رُت کے ڈھلنے سے
چہرہ کس کا بدلا ہے؟، آئینے بدلنے سے
جنگلوں کے سناٹے رُوح میں اترتے ہیں
خواہشوں کے موسم میں پافگار چلنے سے
خواب پھر سے جاگے ہیں نیم خواب آنکھوں میں
گھنٹیاں سی بجتی ہیں آرزو بدلنے سے

ہم خاک با سر ریت کے صحرا میں کھڑے ہیں

ہم خاک با سر ریت کے صحرا میں کھڑے ہیں
پیاسے ہیں مگر اپنے اصولوں پہ اَڑے ہیں
لے جائے کہیں بھی ہمیں سیلابِ محبت
ہم کب کسی طُوفان کے ریلوں سے ڈرے ہیں
ہم نے بھی کفن باندھ لیے اپنے سروں پر
سب تیر بھی اپنی کمانوں میں پڑے ہیں

کوئی بھی حرف دعا اب اثر نہیں رکھتا

کوئی بھی حرفِ دُعا اب اثر نہیں رکھتا
میرا خُدا بھی تو مُجھ پر نظر نہیں رکھتا
ہوا کو کس لئے بے چِہرگی کا صدمہ ہے
یہاں تو کوئی بھی شانوں پہ سر نہیں رکھتا
وہ دشتِ خواب ہو ویرانہ ہو کہ صحرا ہو
جنوں کی راہ میں حدِ سفر نہیں رکھتا