عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کرم یہ رحمتِ ربّ الانام کر دینا
عطائے جلوۂ دارالسّلام کر دینا
پیامِ اذنِ حضوری مجھے ملے جس دم
زباں پہ جاری محمدﷺ کا نام کر دینا
نہ لُوں میں دولتِ کونین آپؐ کے بدلے
تو روزِ حشر، شفاعت امام کر دینا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کرم یہ رحمتِ ربّ الانام کر دینا
عطائے جلوۂ دارالسّلام کر دینا
پیامِ اذنِ حضوری مجھے ملے جس دم
زباں پہ جاری محمدﷺ کا نام کر دینا
نہ لُوں میں دولتِ کونین آپؐ کے بدلے
تو روزِ حشر، شفاعت امام کر دینا
عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا
اور اس دل نے بنا ڈالا تماشا دل کا
بعد تیرے کوئی نظروں میں سمایا ہی نہیں
اب صدا دیتا نہیں خالی یہ کاسہ دل کا
ایک طوفان ہے روکے سے نہیں جو رکتا
موج نے توڑ دیا ہو نہ کنارا دل کا
وہ سامنے ہوں مِرے اور نظر جھکی نہ رہے
متاعِ زیست لٹا کر کوئی کمی نہ رہے
دِیے جلائے ہیں میں نے کھلے دریچوں پر
اے تند و تیز ہوا! تجھ کو برہمی نہ رہے
بتاؤ، ایسا بھی منظر نظر سے گزرا ہے
چراغ جلتے رہیں، اور روشنی نہ رہے
وہ سامنے ہوں مِرے اور نظر جھکی نہ رہے
متاع زیست لٹا کر کوئی کمی نہ رہے
دئیے جلائے ہیں میں نے کھلے دریچوں پر
اے تند و تیز ہوا! تجھ کو برہمی نہ رہے
بتاؤ ایسا بھی منظر نظر سے گزرا ہے
چراغ جلتے رہیں اور روشنی نہ رہے