Wednesday, 13 July 2022

عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا

 عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا

اور اس دل نے بنا ڈالا تماشا دل کا

بعد تیرے کوئی نظروں میں سمایا ہی نہیں

اب صدا دیتا نہیں خالی یہ کاسہ دل کا

ایک طوفان ہے روکے سے نہیں جو رکتا

موج نے توڑ دیا ہو نہ کنارا دل کا

دو گھڑی چین سے جینے نہیں دیتا ناداں

جان پاتے ہی نہیں کیا ہے ارادہ دل کا

وہ پلٹ آئے کبھی اور اُسے میں نہ ملوں

لے ہی ڈوبے گا کسی روز یہ دھڑکا دل کا

چاہتیں بانٹی ہیں دنیا کو محبت دی ہے

میں نے کب یوں ہی سنبھالا ہے خزانہ دل کا

درمیاں عشق کے دیوار کھڑی ہے شہناز

عقل پہ کیسا لگا آج یہ پہرہ دل کا


شہناز مزمل

No comments:

Post a Comment