Wednesday, 13 July 2022

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

 تم یاد مجھے آ جاتے ہو

جب صحنِ چمن میں کلیاں کھل کر پھول کی صورت ہوتی ہیں

اور اپنی مہک سے ہر دل میں ایک تخمِ لطافت بوتی ہیں

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

جب برکھا کی رُت آتی ہے، جب کالی گھٹائیں اُٹھتی ہیں

جس وقت کہ رندوں کے دل سے ہوحق کی صدائیں اُٹھتی ہیں

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

جب مینہ کی پھواریں پڑتی ہیں، جب ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں

جب صحنِ چمن سے گھبرا کر پی پی کی صدائیں آتی ہیں

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

جب چودھویں شب کا چاند نکل کر دہر منوّر کرتا ہے

جب کوئی محبت کا مارا کچھ ٹھنڈی سانسیں بھرتا ہے

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

جب رات کی ظلمت گھٹتی ہے، جب صبح کا نور اُبھرتا ہے

جب کوئل کوکو کرتی ہے، جب پنچھی پی پی کرتا ہے

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

جب کوئی کسی کا ہاتھ پکڑ کر سیر کو باہر جاتا ہے

جب کوئی نگاہِ شوق کے آگے رہ رہ کر گھبراتا ہے

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

جب چار نگاہیں کرکے کوئی محوِ تبسّم ہوتا ہے

جب کوئی محبت کا مارا اس کیف میں پڑ کر کھوتا ہے

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

افلاک پہ جب یہ لاکھوں تارے جگ مگ جگ مگ کرتے ہیں

جب تارے گن گن کر دل والے ٹھنڈی سانسیں بھرتے ہیں

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

جب رات کا بڑھتا ہے سنّاٹا، چین سے دنیا سوتی ہے

تب آنکھ مِری کھل جاتی ہے اور دل کی رگ رگ روتی ہے

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

جب روتا ہے بہزادِ حزیں وہ شاعر وہ دیوانہ سا

وہ دل والا وہ سودائی وہ دنیا سے بیگانہ سا

تم یاد مجھے آ جاتے ہو

تم یاد مجھے آ جاتے ہو


بہزاد لکھنوی

No comments:

Post a Comment