Showing posts with label محشر لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label محشر لکھنوی. Show all posts

Thursday, 4 February 2021

واہ کیا خوب قدر کی دل کی

 واہ کیا خوب قدر کی دل کی 

نہ سنی تم نے ایک بھی دل کی 

ضبط فریاد میں کٹی شب ہجر 

شکر ہے بات رہ گئی دل کی 

مست ہیں نشۂ جوانی سے 

کیا خبر آپ کو کسی دل کی 

Thursday, 15 December 2016

نظر بھر کے سوئے بیمارِغم دیکھا نہیں جاتا

نظر بھر کے سوئے بیمارِغم دیکھا نہیں جاتا
اکھڑنا ایک اک ہچکی میں دم دیکھا نہیں جاتا
خدا دشمن سے دشمن کو نا دکھلائے شبِ فرقت
مجھی سے اپنا چہرہ صبح دم دیکھا نہیں جاتا
محبت میں کچھ ایسے آنکھوں پر پڑ جاتے ہیں پردے
کہ وقتِ جذبِ دل دَیر و حرم دیکھا نہیں جاتا

کہتی تھی یہ ماں خوں بھری میت سے لپٹ کر

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ نوحہ بر شہادت علی اکبر

کہتی تھی یہ ماں خوں بھری میت سے لپٹ کر
ہائے ہائے علی اکبر ہائے ہائے علی اکبر
ارماں تھا پہناؤں گی پوشاک شاہانی
افسوس کہ راس آئی نہ تجھ کو یہ جوانی
کیسا تھا مقدر ہائے ہائے علی اکبر
کہتی تھی یہ ماں

Saturday, 2 May 2015

تم آتے پاس تو یوں شرح آرزو کرتے

تم آتے پاس تو یوں شرحِ آرزو کرتے
کہ نذرِ چشم، کلیجے کا ہم لہو کرتے
کلیمؑ صرف ارنی کہہ کے ہو گئے خاموش
ہزار رنگ سے مطلب کی گفتگو کرتے
وہ کہتے ہیں کہ کوئی تو ضرور ہو گی غرض
کسی کو یوں نہیں دیکھا ہے دل لہو کرتے

سنتا ہے کون کس سے کہیں بزم یار میں

سنتا ہے کون، کس سے کہیں بزمِ یار میں
بیٹھے ہی بیٹھے دل نہ رہا اختیار میں
کیا کیا تڑپ تڑپ کے پکارے ہیں تم کو ہم
کیا کیا اٹھا ہے درد، دلِ بے قرار میں
آنکھیں اجل کے بند کیے بھی نہ ہوں گی بند
جاگا ہوں اس طرح سے شبِ انتظار میں

فدا برق نگہ کے آنکھ بھر کر دیکھتے جاؤ

فدا برقِ نِگہ کے، آنکھ بھر کر دیکھتے جاؤ
جو دیکھا جائے حالِ قلبِ مضطر دیکھتے جاؤ
تمنائے قتیلِ ناز کو دیکھو نہ دیکھو تم
نزاکت سے رکا جاتا ہے خنجر، دیکھتے جاؤ
ہماری گرد دامانِ ہوا سے اڑتی آتی ہے
ذرا اے رہروانِ کوئے دلبر، دیکھتے جاؤ

Saturday, 1 February 2014

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری؛ محشر لکھنوی

تضمین بر لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنّا میری 
زندگی بم سے ہو محفوظ خدایا میری 
میں جو دفتر کے لئے گھر سے نکل کر جاؤں 
روز مرّہ کی طرح خیر سے واپس آؤں 
نہ کوئی بم کے دھماکے سے اُڑا دے مجھ کو 
مُفت میں جامِ شہادت نہ پِلا دے مُجھ کو 

مار ڈالا حسرتوں کے غم نے اے محشر ہمیں

نوحۂ حیات

مار ڈالا حسرتوں کے غم نے اے محشرؔ ہمیں
چند دن میں ختم ہے اپنا بھی دورانِ حیات
گھٹ گیا زورِ جوانی، ہو گئے اعضا ضعیف
کون اب سر پر اُٹھائے بارِ احسانِ حیات
خیریت سے جیتے جیتے ہو گئے چالیس سال
اب کہاں وہ روز و شب کہئے جنہیں جانِ حیات

روح کو راضی کیا میں نے تو راضی دل نہ تھا

رُوح کو راضی کیا میں نے تو راضی دل نہ تھا
 ورنہ اُٹھنا محفلِ ہستی سے کچھ مشکل نہ تھا
 چار آنکھیں ہوتے ہی قابو میں گویا دل نہ تھا
 کہہ گزرنا ورنہ حالِ ہجر کچھ مشکل نہ تھا
 سُننے والے میرا قصہ سُن کے یوں دیتے ہیں داد
 یا تو یہ زندہ نہ تھا، یا پاس اس کے دل نہ تھا

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں

کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں
یہ سوچتا ہوں کبھی کبھی میں
عدم کو جس نے وجُود بخشا
وجُود کو پھر نمُود بخشا
نمُود کو تازگی عطا کی
عطا کی حد حشر سے ملا دی