کیا کر لے گی ہجر نصیبی، فرض کِیا
فرض کِیا، کیا جاں لے لے گی، فرض کیا
اتنی بھیڑ کہ جس میں خلقت کھو جائے
میں نے خود کو ایک اکیلی فرض کیا
تیری چپ کو اور کہاں تک سنتی میں
فرض کِیا، انکار حبیبی فرض کیا
کیا کر لے گی ہجر نصیبی، فرض کِیا
فرض کِیا، کیا جاں لے لے گی، فرض کیا
اتنی بھیڑ کہ جس میں خلقت کھو جائے
میں نے خود کو ایک اکیلی فرض کیا
تیری چپ کو اور کہاں تک سنتی میں
فرض کِیا، انکار حبیبی فرض کیا
خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ بنے پھرئیے
سرکار کی مرضی ہے کہ کب کیا بنے پھرئیے
اندھوں کا نگر ہے یہ مِرے آئینہ تمثال
اس شہر میں کیا آئینہ خانہ بنے پھرئیے
کیوں کوئی ٹھکانہ کرے تاریک مکاں میں
اچھا ہے کسی شہر کا رستہ بنے پھرئیے
مجھ کو وقف دار کرو
میں رسموں سے باغی ہوں
اس کی چاہت ہے کہ میں
خاموشی سے ظلم سہوں
دنیا کب کیا سوچے گی
کیوں ہر بات پہ یہ سوچوں
کسے خبر تھی کہ عشق میں روز تازہ کاری کا حکم ہو گا
سفر سے تھک کر ابھی گریں گے کہ پھر تیاری کا حکم ہو گا
ہمیں وہ تابع جنہیں اجل بدسلوک حاکم بنی ملے گی
جو نصف دنیا سے لڑ کے بیٹھیں گے ہم تو ساری کا حکم ہو گا
میں جس کو جی بھر کے دیکھتی بھی نہیں کہ اس کو نظر لگے گی
تو کیا بنے گا، جب اس محبت میں ساجھے داری کا حکم ہو گا
مجھے تپتے ہوئے حرفوں کی بھٹی سے نکالو
میرے تالُو میں چھالے بن گئے ہیں گاؤں والو
پسرتے شہر کے پکے مکانوں میں گُھٹن ہے
کشادہ صحن کی عادی تھی میں اے شہر والو
یہ پگڈنڈی نشاں ہے، بس یہیں تک روشنی ہے
اب اس سے آگے ہاتھوں میں کوئی مشعل اُٹھا لو
یہ شہر کافر ہے یاں بہت ہے ریا کا چرچا
ابھی مضافات تک نہیں اس وبا کا چرچا
سنائی دیتا ہے آسمانوں سے مجھ کو اکثر
جو میں نے مانگی تلک نہیں اس دعا کا چرچا
کبھی ملیں گے تو اس کو اچھے سے جان لیں گے
ابھی تو واعظ سے سن رہے ہیں خدا کا چرچا
یہ گنگ دھرتی کی چپ شکایت جو آسمانوں کا مسئلہ تھا
یہ ایک دو دن کا دکھ نہیں تھا، کئی زمانوں کا مسئلہ تھا
کوئی تو آئے جو ہُوک اٹھائے تو سجدۂ غم کا حق ادا ہو
یہ دشتِ گریہ میں گونجتی بے نوا اذانوں کا مسئلہ تھا
بس اتنا کافی نہ تھا کہ سوکھے ہوئے گلابوں کا بوجھ اٹھاتے
یا دستِ گل سے پھسلتی خوشبو بھی پھولدانوں کا مسئلہ تھا
جھاڑ کر شاخِ بدن پر سے جدائی میں نے
جمع کی فصلِ محبت کی کمائی میں نے
ڈھونڈ لائی ہوں میں مجذوب محبت کا علاج
سانس پر آنچ رکھی دھونی جگائی میں نے
مور کے بکھرے پر و بال پہ گریہ زن ہوں
دشت میں رقص کیا دھول اڑائی میں نے
مصلحت کا ہے دور، چپ خاموش
میرے اندر کے شور، چپ خاموش
بول سکتے نہیں تو سہتے رہو
وقت کا ظلم و جور، چپ خاموش
اک تو دیوار و در بھی بے بہرہ
اس پہ یہ چشمِ کور، چپ خاموش