Showing posts with label فرح گوندل. Show all posts
Showing posts with label فرح گوندل. Show all posts

Wednesday, 17 May 2023

کیا کر لے گی ہجر نصیبی فرض کیا

 کیا کر لے گی ہجر نصیبی، فرض کِیا 

فرض کِیا، کیا جاں لے لے گی، فرض کیا

اتنی بھیڑ کہ جس میں خلقت کھو جائے

میں نے خود کو ایک اکیلی فرض کیا

تیری چپ کو اور کہاں تک سنتی میں

فرض کِیا، انکار حبیبی فرض کیا

Monday, 10 April 2023

خود کوزہ گر و خود گل کوزہ بنے پھریے

خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ بنے پھرئیے

سرکار کی مرضی ہے کہ کب کیا بنے پھرئیے

اندھوں کا نگر ہے یہ مِرے آئینہ تمثال

اس شہر میں کیا آئینہ خانہ بنے پھرئیے

کیوں کوئی ٹھکانہ کرے تاریک مکاں میں

اچھا ہے کسی شہر کا رستہ بنے پھرئیے

Wednesday, 12 January 2022

مجھ کو وقفِ دار کرو میں رسموں سے باغی ہوں

 مجھ کو وقف دار کرو

میں رسموں سے باغی ہوں

اس کی چاہت ہے کہ میں

خاموشی سے ظلم سہوں

دنیا کب کیا سوچے گی

کیوں ہر بات پہ یہ سوچوں

Monday, 10 January 2022

کسے خبر تھی کہ عشق میں روز تازہ کاری کا حکم ہو گا

کسے خبر تھی کہ عشق میں روز تازہ کاری کا حکم ہو گا

سفر سے تھک کر ابھی گریں گے کہ پھر تیاری کا حکم ہو گا

ہمیں وہ تابع جنہیں اجل بدسلوک حاکم بنی ملے گی

جو نصف دنیا سے لڑ کے بیٹھیں گے ہم تو ساری کا حکم ہو گا

میں جس کو جی بھر کے دیکھتی بھی نہیں کہ اس کو نظر لگے گی

تو کیا بنے گا، جب اس محبت میں ساجھے داری کا حکم ہو گا

Thursday, 30 December 2021

مجھے تپتے ہوئے حرفوں کی بھٹی سے نکالو

 مجھے تپتے ہوئے حرفوں کی بھٹی سے نکالو

میرے تالُو میں چھالے بن گئے ہیں گاؤں والو

پسرتے شہر کے پکے مکانوں میں گُھٹن ہے

کشادہ صحن کی عادی تھی میں اے شہر والو

یہ پگڈنڈی نشاں ہے، بس یہیں تک روشنی ہے

اب اس سے آگے ہاتھوں میں کوئی مشعل اُٹھا لو

Monday, 27 December 2021

یہ شہر کافر ہے یاں بہت ہے ریا کا چرچا

 یہ شہر کافر ہے یاں بہت ہے ریا کا چرچا

ابھی مضافات تک نہیں اس وبا کا چرچا

سنائی دیتا ہے آسمانوں سے مجھ کو اکثر

جو میں نے مانگی تلک نہیں اس دعا کا چرچا

کبھی ملیں گے تو اس کو اچھے سے جان لیں گے

ابھی تو واعظ سے سن رہے ہیں خدا کا چرچا 

Sunday, 26 December 2021

یہ گنگ دھرتی کی چپ شکایت جو آسمانوں کا مسئلہ تھا

 یہ گنگ دھرتی کی چپ شکایت جو آسمانوں کا مسئلہ تھا

یہ ایک دو دن کا دکھ نہیں تھا، کئی زمانوں کا مسئلہ تھا

کوئی تو آئے جو ہُوک اٹھائے تو سجدۂ غم کا حق ادا ہو

یہ دشتِ گریہ میں گونجتی بے نوا اذانوں کا مسئلہ تھا

بس اتنا کافی نہ تھا کہ سوکھے ہوئے گلابوں کا بوجھ اٹھاتے

یا دستِ گل سے پھسلتی خوشبو بھی پھولدانوں کا مسئلہ تھا

Monday, 30 August 2021

جھاڑ کر شاخ بدن پر سے جدائی میں نے

 جھاڑ کر شاخِ بدن پر سے جدائی میں نے

جمع کی فصلِ محبت کی کمائی میں نے

ڈھونڈ لائی ہوں میں مجذوب محبت کا علاج

سانس پر آنچ رکھی دھونی جگائی میں نے

مور کے بکھرے پر و بال پہ گریہ زن ہوں

دشت میں رقص کیا دھول اڑائی میں نے

Monday, 21 June 2021

مصلحت کا ہے دور چپ خاموش

 مصلحت کا ہے دور، چپ خاموش

میرے اندر کے شور، چپ خاموش

بول سکتے نہیں تو سہتے رہو

وقت کا ظلم و جور، چپ خاموش

اک تو دیوار و در بھی بے بہرہ

اس پہ یہ چشمِ کور، چپ خاموش