کسے خبر تھی کہ عشق میں روز تازہ کاری کا حکم ہو گا
سفر سے تھک کر ابھی گریں گے کہ پھر تیاری کا حکم ہو گا
ہمیں وہ تابع جنہیں اجل بدسلوک حاکم بنی ملے گی
جو نصف دنیا سے لڑ کے بیٹھیں گے ہم تو ساری کا حکم ہو گا
میں جس کو جی بھر کے دیکھتی بھی نہیں کہ اس کو نظر لگے گی
تو کیا بنے گا، جب اس محبت میں ساجھے داری کا حکم ہو گا
تمام خلقت جب اپنا زادِ سفر سمیٹے گی،۔ کوچ ہو گا
ہم ایسے لوگوں کو سنگِ مقتل پہ شب گزاری کا حکم ہو گا
اگر کہیں پر خوشی ملے بھی تو دوستو! چھپ چھپا کے ہنسنا
جو وحشتوں کو بھِنک لگے گی، تو سوگواری کا حکم ہو گا
بہت خموشی سے ایک پیغام بھیجا جائے گا؛ کوچ ہے جی
سبھی مسافر مقیم ہوں گے،۔ ہمیں سواری کا حکم ہو گا
فرح گوندل
No comments:
Post a Comment