Monday, 10 January 2022

وہ یار ہم سے خفا ہے تو ہو ہوا سو ہوا

 وہ یار ہم سے خفا ہے تو ہو، ہُوا سو ہوا

پھر اس کا قصہ ہی کیا جانے دو ہوا سو ہوا

اگر رقیب شرارت سے باز نہیں آتا

بلا سے اپنی کنویں میں پڑو، ہوا سو ہوا

ہر اک بات میں تم کیوں الجھتے ہو یارو

دیکھو یہ مفت گدھے مت چڑھو، ہوا سو ہوا

یہ سارا قضیہ تو ہم سے ہے اس سے تم کو کیا

تم اپنے ایک طرف ہو رہو، ہوا سو ہوا

ہم اپنا آپ ہی کر لیں گے انفعال اس سے

ہمارے بیچ کوئی مت پڑو، ہوا سو ہوا

یہ سب لڑانے کی باتیں ہیں تم جو کرتے ہو

ذرا تو خیر کا کلمہ کہو، ہوا سو ہوا

ہمیں تو یار سوا اپنے تئیں کرے کام

برا کسی کو لگے تو لگو، ہوا سو ہوا

رنگا ہے اب تو زمانے نے رنگ

یہ لال زرد دکھائی کرو، ہوا سو ہوا

گراں ہوں سے تِری نین پیش نہیں جاتی

تو پھیر بے ہودہ کیوں بکتے ہو، ہوا سو ہوا


نین سکھ

خالد محمود

No comments:

Post a Comment