نفرت کی درمیاں نہ یوں دیوار اٹھاؤ دوست
مجھ دل دریدہ شخص کو مت آزماؤ دوست
افسوس، مجھ سے یار بھلائے نہیں گئے
کوشش کرو کہ تم بھی مجھے بھول جاؤ دوست
دنیا تو خیر واقفِ احوال ہی نہ تھی
اب تم تو اس طرح نہ تماشا بناؤ دوست
تھے منزلِ وفا کی سبھی راستے کٹھن
اب بھی ہے وقت راہ سے تم لوٹ جاؤ دوست
دریا کسی کے پیار کا گزرا پھر اس کے بعد
اس دشت میں ہوا نہ کسی کا پڑاؤ دوست
کیا پوچھتے ہو راہِ محبت میں ہار کر
میں خود میں کھو گیا ہوں تم اپنی سناؤ دوست
اچھا تو یہ خلوص و مروت کا ہے صلہ
مشکل جو آ پڑی تو نگاہیں چراؤ دوست
پھر زندگی کے موڑ پہ گر دفعتاً ملے
پہچان لو گے مجھ کو نہیں سچ بتاؤ دوست
تم جانتے ہو جانِ صفی کا وہ زود رنج
دیکھو کہیں سے یار اسے بھول جاؤ دوست
صفی ربانی
No comments:
Post a Comment