Monday, 10 January 2022

نفرت کی درمیاں نہ یوں دیوار اٹھاؤ دوست

 نفرت کی درمیاں نہ یوں دیوار اٹھاؤ دوست

مجھ دل دریدہ شخص کو مت آزماؤ دوست

افسوس، مجھ سے یار بھلائے نہیں گئے

کوشش کرو کہ تم بھی مجھے بھول جاؤ دوست

دنیا تو خیر واقفِ احوال ہی نہ تھی

اب تم تو اس طرح نہ تماشا بناؤ دوست

تھے منزلِ وفا کی سبھی راستے کٹھن

اب بھی ہے وقت راہ سے تم لوٹ جاؤ دوست

دریا کسی کے پیار کا گزرا پھر اس کے بعد

اس دشت میں ہوا نہ کسی کا پڑاؤ دوست

کیا پوچھتے ہو راہِ محبت میں ہار کر

میں خود میں کھو گیا ہوں تم اپنی سناؤ دوست

اچھا تو یہ خلوص و مروت کا ہے صلہ

مشکل جو آ پڑی تو نگاہیں چراؤ دوست

پھر زندگی کے موڑ پہ گر دفعتاً ملے

پہچان لو گے مجھ کو نہیں سچ بتاؤ دوست

تم جانتے ہو جانِ صفی کا وہ زود رنج

دیکھو کہیں سے یار اسے بھول جاؤ دوست


صفی ربانی

No comments:

Post a Comment