وہ آنکھ آنکھ نہیں ہے جو اشک بار نہیں
وہ دل بھی دل ہے کوئی جو کہ داغدار نہیں
مرے لئے یہ نکالی ہے فال طوطے نے
تو زندگی کو بسر کر اسے گزار نہیں
یہ کائنات مجھے اس لئے اضافی ہے
ابھی میں پوری طرح خود پہ آشکار نہیں
وہ میرے نام کے ہر شب دیے جلاتا ہے
جو مجھ سے کہتا تھا اب تیرا انتظار نہیں
ہر ایک غم کی دوا ہے یہ کربلا کا غم
وہ کون ہے کہ جو اس غم میں سوگوار نہیں
نہ اہل دل کی صفوں میں نہ اہل مذہب کی
ہم ایسے لوگوں کا دونوں طرف شمار نہیں
مصطفیٰ جاذب
No comments:
Post a Comment