Monday, 10 January 2022

وہ آنکھ آنکھ نہیں ہے جو اشکبار نہیں

 وہ آنکھ آنکھ نہیں ہے جو اشک بار نہیں

وہ دل بھی دل ہے کوئی جو کہ داغدار نہیں

مرے لئے یہ نکالی ہے فال طوطے نے

تو زندگی کو بسر کر اسے گزار نہیں

یہ کائنات مجھے اس لئے اضافی ہے

ابھی میں پوری طرح خود پہ آشکار نہیں

وہ میرے نام کے ہر شب دیے جلاتا ہے

جو مجھ سے کہتا تھا اب تیرا انتظار نہیں

ہر ایک غم کی دوا ہے یہ کربلا کا غم

وہ کون ہے کہ جو اس غم میں سوگوار نہیں

نہ اہل دل کی صفوں میں نہ اہل مذہب کی

ہم ایسے لوگوں کا دونوں طرف شمار نہیں


مصطفیٰ جاذب

No comments:

Post a Comment