خشک آنکھوں سے کوئی پیاس نہ جوڑی ہم نے
آس ہم سے جو سرابوں کو تھی، توڑی ہم نے
بارہا ہم نے یہ پایا کہ لہو میں ہے شرر
اپنی دکھتی ہوئی رگ جب بھی نچوڑی ہم نے
جو سنورنے کو کسی طور بھی راضی نہ ہوئی
بھاڑ میں پھینک دی دنیا وہ نگوڑی ہم نے
خشک آنکھوں سے کوئی پیاس نہ جوڑی ہم نے
آس ہم سے جو سرابوں کو تھی، توڑی ہم نے
بارہا ہم نے یہ پایا کہ لہو میں ہے شرر
اپنی دکھتی ہوئی رگ جب بھی نچوڑی ہم نے
جو سنورنے کو کسی طور بھی راضی نہ ہوئی
بھاڑ میں پھینک دی دنیا وہ نگوڑی ہم نے
تاروں سے اور بات میں کمتر نہیں ہوں میں
جُگنو ہوں اس لیے کہ فلک پر نہیں ہوں میں
صدموں کی بارشیں مجھے کچھ تو گُھلائیں گی
پُتلا ہوں خاک کا، کوئی پتھر نہیں ہوں میں
دریائے غم میں برف کے تودے کی شکل میں
مُدت سے اپنے قد کے برابر نہیں ہوں میں
میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹُوٹ جاتا ہے
وفائیں گر نہ ہوں بُنیاد میں گھر ٹوٹ جاتا ہے
شناور کو کوئی دلدل نہیں دریا دیا جائے
جہاں کم ظرف بیٹھے ہوں سخنور ٹوٹ جاتا ہے
انا خود دار کی رکھتی ہے اس کا سر بُلندی پر
کسی پورس کے آگے ہر سکندر ٹوٹ جاتا ہے
تھوڑا سا زندگی کا خسارا ضرور ہے
پر غم نے دل کا رنگ نکھارا ضرور ہے
مہتاب پھر رہا ہے خلاؤں میں اس طرح
جیسے کہ آسماں کا کنارا ضرور ہے
عالم میں دیکھیے تو کوئی بھی خدا نہیں
عالم خدا کی سمت اشارا ضرور ہے