Showing posts with label مینک اوستھی. Show all posts
Showing posts with label مینک اوستھی. Show all posts

Friday, 20 March 2026

خشک آنکھوں سے کوئی پیاس نہ جوڑی ہم نے

 خشک آنکھوں سے کوئی پیاس نہ جوڑی ہم نے

آس ہم سے جو سرابوں کو تھی، توڑی ہم نے

بارہا ہم نے یہ پایا کہ لہو میں ہے شرر

اپنی دکھتی ہوئی رگ جب بھی نچوڑی ہم نے

جو سنورنے کو کسی طور بھی راضی نہ ہوئی

بھاڑ میں پھینک دی دنیا وہ نگوڑی ہم نے

Thursday, 14 November 2024

تاروں سے اور بات میں کمتر نہیں ہوں میں

 تاروں سے اور بات میں کمتر نہیں ہوں میں

جُگنو ہوں اس لیے کہ فلک پر نہیں ہوں میں

صدموں کی بارشیں مجھے کچھ تو گُھلائیں گی

پُتلا ہوں خاک کا، کوئی پتھر نہیں ہوں میں

دریائے غم میں برف کے تودے کی شکل میں

مُدت سے اپنے قد کے برابر نہیں ہوں میں

Friday, 30 August 2024

میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹوٹ جاتا ہے

 میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹُوٹ جاتا ہے

وفائیں گر نہ ہوں بُنیاد میں گھر ٹوٹ جاتا ہے

شناور کو کوئی دلدل نہیں دریا دیا جائے

جہاں کم ظرف بیٹھے ہوں سخنور ٹوٹ جاتا ہے

انا خود دار کی رکھتی ہے اس کا سر بُلندی پر

کسی پورس کے آگے ہر سکندر ٹوٹ جاتا ہے

Sunday, 18 April 2021

تھوڑا سا زندگی کا خسارہ ضرور ہے

 تھوڑا سا زندگی کا خسارا ضرور ہے

پر غم نے دل کا رنگ نکھارا ضرور ہے

مہتاب پھر رہا ہے خلاؤں میں اس طرح

جیسے کہ آسماں کا کنارا ضرور ہے

عالم میں دیکھیے تو کوئی بھی خدا نہیں

عالم خدا کی سمت اشارا ضرور ہے