Sunday, 18 April 2021

تھوڑا سا زندگی کا خسارہ ضرور ہے

 تھوڑا سا زندگی کا خسارا ضرور ہے

پر غم نے دل کا رنگ نکھارا ضرور ہے

مہتاب پھر رہا ہے خلاؤں میں اس طرح

جیسے کہ آسماں کا کنارا ضرور ہے

عالم میں دیکھیے تو کوئی بھی خدا نہیں

عالم خدا کی سمت اشارا ضرور ہے

ہم کو یقیں ہے آپ کو دل کی کتاب میں

اک ان لکھے سا نام ہمارا ضرور ہے

کیا جانئے وہ شوخ سمندر ہے یا سراب

جو بھی ہو تشنگی کا سہارا ضرور ہے

ویسے مِری زباں پہ کوئی اور لفظ تھا

پر دوست کہہ کے تجھ کو پکارا ضرور ہے

کچھ شعر کہہ کے ہم کو گماں یہ ہوا مینک

اک آسماں زمیں پہ اتارا ضرور ہے


مینک اوستھی

No comments:

Post a Comment