کشید کی ہے اندھیروں سے روشنی میں نے
کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی میں نے
تھی جس میں وسعتِ دریا وہ آنکھ یاد آئی
کسی کی آنکھ میں دیکھی ہے جب نمی میں نے
قدم قدم پہ مِری عمرِ اعتماد گھٹی
بڑھایا جب بھی کبھی دستِ دوستی میں نے
ہے دل ملول کہ غارت گرِ سکوں نکلی
فضول کی ہے تمنائے روشنی میں نے
غم جہاں نے مجھے ہر طرف سے گھیر لیا
کسی کو یاد کیا تھا ابھی ابھی میں نے
وہ، جس کا ہاتھ پہ رنگِ حنا سے نام لکھا
اسی کو بخش دی ہر عید کی خوشی میں نے
جہاں بھی تیرگئ فکر سامنے آئی
یقین و عزم کی قندیل تھام لی میں نے
قندیل جعفری
No comments:
Post a Comment