Saturday, 17 April 2021

نہ پایا کچھ پتہ اس کا خدا جانے کہاں ہے وہ

نہ پایا کچھ پتہ اس کا خدا جانے کہاں ہے وہ؟

زمانے بھر میں ڈھونڈ آیا خدا جانے کہاں ہے وہ 

مؤذن سے جو پوچھا ہاتھ رکھ کر اس نے کانوں پر 

کہا مجھ کو خبر ہے کیا، خدا جانے کہاں ہے وہ 

اسے مندر میں ڈھونڈ آیا اسے مسجد میں دیکھ آیا 

نہیں ملتا نشاں اس کا، خدا جانے کہاں ہے وہ 

اسے میں بن کے عاشق سارے معشوقوں میں ڈھونڈ آیا 

نظر آیا نہ کچھ جلوہ، خدا جانے کہاں ہے وہ 

زمین و آسماں کون و مکاں دیر و حرم دیکھا 

نہیں ملتا پتہ اس کا خدا جانے کہاں ہے وہ 

پپیہا پی کہاں بولا، کہا کوئل نے تُو ہی تُو 

سمجھ میں کچھ نہیں آتا خدا جانے کہاں ہے وہ 

کہاں سے پی کے آئے ہو بہت بہکے ہو تم اصغر

کہاں بندہ کہاں مولیٰ، خدا جانے کہاں ہے وہ 


اصغر نظامی

No comments:

Post a Comment