Showing posts with label فوزیہ بھٹی. Show all posts
Showing posts with label فوزیہ بھٹی. Show all posts

Wednesday, 25 June 2025

یہ جو جنگ کا اشارہ ہے خسارہ ہی خسارہ ہے

 خسارہ


میرے دشمن، میرے دشمن، میرے دشمن

ذرا دیکھو، ذرا سوچو، ذرا سمجھو

کرب و مسکان کا کیا کوئی کنارا ہے

کون جیتا ہے، کون ہارا ہے

فتح و شکست کا گمان جو تمہارا ہے

اس پار لہو ہمارا ہے، اِس پار لہو تمہارا ہے

Friday, 16 December 2022

دسمبر کی دھند یاد تیری لے آئی ہے

 یہ موسم تو

کبھی تیرے سنگ نہیں گزرا

مگر

آج کہر فضا میں نہیں

آنکھوں میں اتر آئی ہے

دسمبر کی دھند

Saturday, 16 July 2022

نصیب ہی بازی لے گیا

 تجھے جیتنے کی تھی آرزو 

مجھے ہارنے کی جستجو 

یہ نصیب ہی بازی لے گیا 

کہاں تم گرے 

کہاں ہم رہے 


فوزیہ بھٹی

Tuesday, 12 July 2022

سکرین تیرے نام سے جگمگاتی رہی

 سکرین تیرے نام سے

جگمگاتی رہی

اور پھر

دیر تک میری انا

مسکراتی رہی


فوزیہ بھٹی

Tuesday, 5 July 2022

گریز کے ساحلوں پہ چلتے چلتے اس نے لفظ بھیجے ہیں

 اس نے لفظ بھیجے ہیں 


گریز کے ساحلوں پہ چلتے چلتے 

نہیں معلوم مگر کیوں 

آج ہوا کے ہمراہ 

اس نے لفظ بھیجے ہیں 


فوزیہ بھٹی

Monday, 4 July 2022

سفر عشق میں مری جاں ذرا آہستہ چل

 سفر عشق میں 

اے مِری جاں

ذرا آہستہ چل

میرے قدم شناسا نہیں 

ان خار زاروں کے


فوزیہ بھٹی

Friday, 1 July 2022

تعلق مر بھی سکتے تھے

 تعلق مر بھی سکتے تھے


وگرنہ اے مرے ہمدم 

دلیلیں تھیں ہمارے پاس 

بحث ہم کر بھی سکتے تھے 

تعلق مر بھی سکتے تھے

 

فوزیہ بھٹی

Wednesday, 29 June 2022

آزما لے ہنر مرے صبر کے پیمانے دیکھ

 آزما لے ہنر

کیسے لگتے ہیں پھر

تاک پر نشانے دیکھ

آہ نہ نکلے گی ضبط کی قسم

اب تُو مِرے 

صبر کے پیمانے دیکھ 

ہجر نے اب سوچا ہے دل اکیلا بہتر ہے

دل اکیلا بہتر ہے


ہجر نے اب سوچا ہے 

دل اکیلا بہتر ہے

اب کی بار پھولوں نے 

تتلیوں کو نوچا ہے 

سرگوشیوں کے گیتوں کو 

Tuesday, 28 June 2022

دسترس کی شام میں اس مفلسی کے دام میں

 دسترس کی شام میں


دسترس کی شام میں

اس مفلسی کے دام میں

بے معنی سے الزام میں

ریختہ ہوتے در و بام میں

لاچاری کے ابہام میں