خسارہ
میرے دشمن، میرے دشمن، میرے دشمن
ذرا دیکھو، ذرا سوچو، ذرا سمجھو
کرب و مسکان کا کیا کوئی کنارا ہے
کون جیتا ہے، کون ہارا ہے
فتح و شکست کا گمان جو تمہارا ہے
اس پار لہو ہمارا ہے، اِس پار لہو تمہارا ہے
خسارہ
میرے دشمن، میرے دشمن، میرے دشمن
ذرا دیکھو، ذرا سوچو، ذرا سمجھو
کرب و مسکان کا کیا کوئی کنارا ہے
کون جیتا ہے، کون ہارا ہے
فتح و شکست کا گمان جو تمہارا ہے
اس پار لہو ہمارا ہے، اِس پار لہو تمہارا ہے
یہ موسم تو
کبھی تیرے سنگ نہیں گزرا
مگر
آج کہر فضا میں نہیں
آنکھوں میں اتر آئی ہے
دسمبر کی دھند
تجھے جیتنے کی تھی آرزو
مجھے ہارنے کی جستجو
یہ نصیب ہی بازی لے گیا
کہاں تم گرے
کہاں ہم رہے
فوزیہ بھٹی
سکرین تیرے نام سے
جگمگاتی رہی
اور پھر
دیر تک میری انا
مسکراتی رہی
فوزیہ بھٹی
اس نے لفظ بھیجے ہیں
گریز کے ساحلوں پہ چلتے چلتے
نہیں معلوم مگر کیوں
آج ہوا کے ہمراہ
اس نے لفظ بھیجے ہیں
فوزیہ بھٹی
سفر عشق میں
اے مِری جاں
ذرا آہستہ چل
میرے قدم شناسا نہیں
ان خار زاروں کے
فوزیہ بھٹی
تعلق مر بھی سکتے تھے
وگرنہ اے مرے ہمدم
دلیلیں تھیں ہمارے پاس
بحث ہم کر بھی سکتے تھے
تعلق مر بھی سکتے تھے
فوزیہ بھٹی
آزما لے ہنر
کیسے لگتے ہیں پھر
تاک پر نشانے دیکھ
آہ نہ نکلے گی ضبط کی قسم
اب تُو مِرے
صبر کے پیمانے دیکھ
دل اکیلا بہتر ہے
ہجر نے اب سوچا ہے
دل اکیلا بہتر ہے
اب کی بار پھولوں نے
تتلیوں کو نوچا ہے
سرگوشیوں کے گیتوں کو
دسترس کی شام میں
دسترس کی شام میں
اس مفلسی کے دام میں
بے معنی سے الزام میں
ریختہ ہوتے در و بام میں
لاچاری کے ابہام میں