Showing posts with label فرخ عدیل. Show all posts
Showing posts with label فرخ عدیل. Show all posts

Sunday, 16 January 2022

پوچھ مت کتنی پریشانی ہوا کرتی ہے

 پوچھ مت کتنی پریشانی ہُوا کرتی ہے

جب بھرے شہر میں ویرانی ہوا کرتی ہے

تیرے سینے سے لگا ہوں تو کھُلا ہے مجھ پر

سانس لینے میں بھی آسانی ہوا کرتی ہے

چند اک پھول ہی ہوتے ہیں بھرے گلشن میں

جن کے جھڑنے پہ پشیمانی ہوا کرتی ہے

Tuesday, 11 January 2022

میری مٹھی میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں ہیں

 کرچیاں


مجھے ساتھ چلنے کا کہتے رہو

چل پڑوں گا

مگر اک حقیقت دھیاں میں رہے

ہمسفر، زادِ رہ کی ضرورت تو ہو گی

مگر میری مٹھی میں

Friday, 2 July 2021

یوں تری راہ میں بے کار پڑے رہتے ہیں

 یوں تری راہ میں بے کار پڑے رہتے ہیں

جیسے روندے ہوئے اخبار پڑے رہتے ہیں

نیند آنکھوں سے کئی کوس پرے رہتی ہے

سامنے خوابوں کے انبار پڑے رہتے ہیں

ہم کو معلوم ہوا ہے کہ تِری چوکھٹ سے

ہم جو اُٹھے ہیں تو اغیار پڑے رہتے ہیں

Tuesday, 29 June 2021

رویا کرو کہ رونے سے بڑھتی ہے عمر اور

 رویا کرو کہ رونے سے بڑھتی ہے عمر اور

اندر کے داغ دھونے سے بڑھتی ہے عمر اور

مت دوریاں بڑھا کہ تجھے علم خوب ہے

اک تیرے پاس ہونے سے بڑھتی ہے عمر اور

یہ سوچ کر ہی جاگتا رہتا ہوں رات بھر

میں نے سنا ہے سونے سے بڑھتی ہے عمر اور

Tuesday, 11 May 2021

تو جو آیا تو لگا تھا کہ سہارا بنے گا

 تُو جو آیا تو لگا تھا کہ سہارا بنے گا

کیا خبر تھی کہ وہی روگ دوبارہ بنے گا

میں نے اے شخص تِری چاہ میں جلدی کی تھی

دل تو پہلے سے یہ کہتا تھا خسارا بنے گا

خار بن کر مِری آنکھوں میں جو چُبھتا ہے وہ اشک

تیری پلکوں سے گرے گا تو ستارا بنے گا

Thursday, 11 March 2021

مسکراتا تھا میں جب کوئی بھنور آتا تھا

 مسکراتا تھا میں جب کوئی بھنور آتا تھا

تیرنے کا مجھے ایسا بھی ہُنر آتا تھا

وقت نے دُھند سی بھر دی ہے مِری آنکھوں میں

پہلے پہلے تو بہت صاف نظر آتا تھا

نام لیتا تھا میں اُس شخص کا تاریکی میں

اور سُورج مِرے پہلو میں اتر آتا تھا

Sunday, 4 October 2020

ہوا سے دست و گریباں ہوا تو بھید کھلا

 ہوا سے دست و گریباں ہوا تو بھید کھُلا

میں خود دیے کی جگہ پر جلا تو بھید کھلا

ہم اپنے نقش بھی کھو بیٹھے اس حسیں کیلئے

ہمارے ہاتھ لگا آئینہ تو بھید کھلا

مجھے خبر ہی نہ تھی غم بھی ہیں زمانے میں

جب آسماں مِرے سر پر گرا تو بھید کھلا

Saturday, 3 October 2020

عین ممکن ہے یہ دنیا تجھے شہکار لگے

 عین ممکن ہے یہ دنیا تجھے شہکار لگے

اس کی تعمیر میں ہم جیسے گنہگار لگے

دیکھنے میں تو بہت پھول تھے اس ٹہنی پر

چھو کے دیکھا تو سبھی پھول ہمیں خار لگے

میں نے تو زخم خریدے ہیں نہ بیچے ہیں کبھی

پھر بھی یہ دل کہ کوئی درد کا بازار لگے

Thursday, 1 October 2020

ہوا سے کیسے کہوں کیا ملا بجھانے سے

ہوا سے کیسے کہوں کیا ملا بجھانے سے

میں تھک گیا ہوں دِیے پر دِیا جلانے سے

اسے پکار مِرے دل کہ جس نے پچھلے برس

کِیا تھا ترکِ تعلق کسی بہانے سے

تُو سوچ خود کہ جو ترکش پہ آن بیٹھا ہے

وہ بچ سکے گا کہاں تک ترے نشانے سے

Wednesday, 30 September 2020

تھا مان بہت جس پہ جدائی نہیں دیتا

 تھا مان بہت جس پہ جدائی نہیں دیتا

اب ڈھونڈ رہا ہوں تو دکھائی نہیں دیتا

تُو قد میں بڑا ہے سو مجھے چیخنا ہو گا

کہتے ہیں بلندی پہ سنائی نہیں دیتا

پر کاٹ کے وہ بابِ قفس کھول رہا ہے

ایسا بھی نہیں ہے کہ رہائی نہیں دیتا

Monday, 28 September 2020

یہ چند لوگ ہمارے ہیں سب ہمارے نہیں

 یہ چند لوگ ہمارے ہیں، سب ہمارے نہیں

چمک رہے ہیں جو سارے سبھی ستارے نہیں

نجانے جلتے ہیں کیوں ہم سے یہ جہاں والے

ہمارے پاس تو اشعار ہیں، شرارے نہیں

وہ مسکراتا ہے اس واسطے تواتر سے

کہ اس نے میری طرح دن ابھی گزارے نہیں

آنکھ کے دشت میں پھیلی ہوئی وحشت کا جواز

 آنکھ کے دشت میں پھیلی ہوئی وحشت کا جواز

ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں تجھ سے محبت کا جواز

میں نے کب شوق سے چھوڑا ہے تِرا شہرِ جمال

خود بخود بنتا گیا تُو مِری ہجرت کا جواز

ضبط کرنا مِرا شیوہ تھا مگر آخرِ کار

آنکھ نے ڈھونڈ لیا دل سے بغاوت کا جواز

Monday, 3 August 2020

میں وہ دریا ہوں جو کوزے میں اتارا ہوا ہوں

کھِل سکا ہوں نہ کسی آنکھ کا تارا ہوا ہوں
کیا کہوں پھینکا گیا ہوں، کہ اتارا ہوا ہوں
وہ بھی میں تھا جسے پلکوں پہ بٹھایا تُو نے
یہ بھی میں ہوں جو تِرے ہجر کا مارا ہوآ ہوں
وہ جو اب میرے خد و خال پہ ہنستا ہے بہت
میں اسی شخص کے ہاتھوں سے سنوارا ہوا ہوں

میں مطمئن نہ ہوا تجھ کو غم سنا کے بھی

میں مطمئن نہ ہوا تجھ کو غم سنا کے بھی
اندھیرا اور بڑھا ہے دیا جلا کے بھی
قبول کرتے ہوئے دل تڑپنے لگتا ہے
عجیب ہوتے ہیں کچھ فیصلے خدا کے بھی
وہ آسمان مِری دسترس میں کیا آتا
ہزار کوششیں کیں ایڑیاں اٹھا کے بھی

بس آنکھ لایا ہوں اور وہ بھی تر نہیں لایا

بس آنکھ لایا ہوں اور وہ بھی تر نہیں لایا
حوالہ دھیان کا میں معتبر نہیں لایا
سوائے اس کے تعارف کوئی نہیں میرا
میں وہ پرندہ ہوں جو اپنے پر نہیں لایا
 مجھے اکیلا حدِ وقت سے گزرنا ہے
میں اپنے ساتھ کوئی ہمسفر نہیں لایا

Sunday, 17 November 2019

کبھی تو سانس تری یاد سے جدا نکلے

کبھی تو سانس تِری یاد سے جدا نکلے
ہماری شب کے مقدر سے رتجگا نکلے
عجب نہیں کہ مِرے بعد میرا کُل ترکہ
ہرا بھرا سا بس اک زخم اور دِیا نکلے
بھنور نے گھیر لیا ہے، سو بچ نہ پاؤں گا
یہ عشق کھیل نہیں ہے کہ راستہ نکلے