پوچھ مت کتنی پریشانی ہُوا کرتی ہے
جب بھرے شہر میں ویرانی ہوا کرتی ہے
تیرے سینے سے لگا ہوں تو کھُلا ہے مجھ پر
سانس لینے میں بھی آسانی ہوا کرتی ہے
چند اک پھول ہی ہوتے ہیں بھرے گلشن میں
جن کے جھڑنے پہ پشیمانی ہوا کرتی ہے
پوچھ مت کتنی پریشانی ہُوا کرتی ہے
جب بھرے شہر میں ویرانی ہوا کرتی ہے
تیرے سینے سے لگا ہوں تو کھُلا ہے مجھ پر
سانس لینے میں بھی آسانی ہوا کرتی ہے
چند اک پھول ہی ہوتے ہیں بھرے گلشن میں
جن کے جھڑنے پہ پشیمانی ہوا کرتی ہے
کرچیاں
مجھے ساتھ چلنے کا کہتے رہو
چل پڑوں گا
مگر اک حقیقت دھیاں میں رہے
ہمسفر، زادِ رہ کی ضرورت تو ہو گی
مگر میری مٹھی میں
یوں تری راہ میں بے کار پڑے رہتے ہیں
جیسے روندے ہوئے اخبار پڑے رہتے ہیں
نیند آنکھوں سے کئی کوس پرے رہتی ہے
سامنے خوابوں کے انبار پڑے رہتے ہیں
ہم کو معلوم ہوا ہے کہ تِری چوکھٹ سے
ہم جو اُٹھے ہیں تو اغیار پڑے رہتے ہیں
رویا کرو کہ رونے سے بڑھتی ہے عمر اور
اندر کے داغ دھونے سے بڑھتی ہے عمر اور
مت دوریاں بڑھا کہ تجھے علم خوب ہے
اک تیرے پاس ہونے سے بڑھتی ہے عمر اور
یہ سوچ کر ہی جاگتا رہتا ہوں رات بھر
میں نے سنا ہے سونے سے بڑھتی ہے عمر اور
تُو جو آیا تو لگا تھا کہ سہارا بنے گا
کیا خبر تھی کہ وہی روگ دوبارہ بنے گا
میں نے اے شخص تِری چاہ میں جلدی کی تھی
دل تو پہلے سے یہ کہتا تھا خسارا بنے گا
خار بن کر مِری آنکھوں میں جو چُبھتا ہے وہ اشک
تیری پلکوں سے گرے گا تو ستارا بنے گا
مسکراتا تھا میں جب کوئی بھنور آتا تھا
تیرنے کا مجھے ایسا بھی ہُنر آتا تھا
وقت نے دُھند سی بھر دی ہے مِری آنکھوں میں
پہلے پہلے تو بہت صاف نظر آتا تھا
نام لیتا تھا میں اُس شخص کا تاریکی میں
اور سُورج مِرے پہلو میں اتر آتا تھا
ہوا سے دست و گریباں ہوا تو بھید کھُلا
میں خود دیے کی جگہ پر جلا تو بھید کھلا
ہم اپنے نقش بھی کھو بیٹھے اس حسیں کیلئے
ہمارے ہاتھ لگا آئینہ تو بھید کھلا
مجھے خبر ہی نہ تھی غم بھی ہیں زمانے میں
جب آسماں مِرے سر پر گرا تو بھید کھلا
عین ممکن ہے یہ دنیا تجھے شہکار لگے
اس کی تعمیر میں ہم جیسے گنہگار لگے
دیکھنے میں تو بہت پھول تھے اس ٹہنی پر
چھو کے دیکھا تو سبھی پھول ہمیں خار لگے
میں نے تو زخم خریدے ہیں نہ بیچے ہیں کبھی
پھر بھی یہ دل کہ کوئی درد کا بازار لگے
ہوا سے کیسے کہوں کیا ملا بجھانے سے
میں تھک گیا ہوں دِیے پر دِیا جلانے سے
اسے پکار مِرے دل کہ جس نے پچھلے برس
کِیا تھا ترکِ تعلق کسی بہانے سے
تُو سوچ خود کہ جو ترکش پہ آن بیٹھا ہے
وہ بچ سکے گا کہاں تک ترے نشانے سے
تھا مان بہت جس پہ جدائی نہیں دیتا
اب ڈھونڈ رہا ہوں تو دکھائی نہیں دیتا
تُو قد میں بڑا ہے سو مجھے چیخنا ہو گا
کہتے ہیں بلندی پہ سنائی نہیں دیتا
پر کاٹ کے وہ بابِ قفس کھول رہا ہے
ایسا بھی نہیں ہے کہ رہائی نہیں دیتا
یہ چند لوگ ہمارے ہیں، سب ہمارے نہیں
چمک رہے ہیں جو سارے سبھی ستارے نہیں
نجانے جلتے ہیں کیوں ہم سے یہ جہاں والے
ہمارے پاس تو اشعار ہیں، شرارے نہیں
وہ مسکراتا ہے اس واسطے تواتر سے
کہ اس نے میری طرح دن ابھی گزارے نہیں
آنکھ کے دشت میں پھیلی ہوئی وحشت کا جواز
ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں تجھ سے محبت کا جواز
میں نے کب شوق سے چھوڑا ہے تِرا شہرِ جمال
خود بخود بنتا گیا تُو مِری ہجرت کا جواز
ضبط کرنا مِرا شیوہ تھا مگر آخرِ کار
آنکھ نے ڈھونڈ لیا دل سے بغاوت کا جواز